’از خود نوٹس کے اختیار کا استعمال زیادہ کیا گیا‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
قانون دانوں کے بین الاقوامی کمیشن (انٹرنیشنل کمیشن فار جیورسٹس)نے جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بطور چیف جسٹس آف پاکستان کے آٹھ سالہ دور سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران سپریم کورٹ نے متعدد اہم فیصلے تو ضرور کیے لیکن اس عرصے کے دوران آئین کے تحت سپریم کورٹ کو دیے جانے والے اختیارات یعنی از خود نوٹس لینے کا بھی بہت زیادہ استعمال کیا گیا جس میں بعض معاملات میں شفافیت پر سوالات بھی اُٹھ رہے ہیں۔
<link type="page"><caption> ’یہ لوگوں کی عدلیہ ہے یا اسٹیبلشمنٹ کی‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/12/111230_asma_reaction_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد واقعات سے متعلق از خود نوٹس لینے سے متعلق بعض اوقات شفافیت کو مدنظر نہیں رکھا گیا اور بعض اوقات تو یہ از خود نوٹس مختلف اداروں کے درمیان اختلافات کا بھی باعث بن سکتے تھے۔
اس کے علاوہ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ نے بعض اہم اور حساس معاملات پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ ان فیصلوں میں پاکستان میں جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد، سات ہزار سے زیادہ سزائے موت کے منتظر افراد کے مقدمے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایڈ آف سول پاور ریگولیشن سنہ 2011 سے متعلق بھی کوئی فیصلہ نہیں دیا جس میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو لامحدود اختیارات دیے گئے جس کے تحت وہ کسی بھی شخص کو کسی بھی الزام کے بغیر غیر معینہ مدت تک اپنی تحویل میں رکھ سکتا ہے۔
اس ریگیولیشن سے حراست میں رکھے جانے والے شخص کو عدالت میں پیش نہ کرنے سے اُس کے بنیادی حقوق بھی سلب کیے جارہے ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کو ان حساس مقدمات کے علاوہ ایسی صورت حال میں از خود نوٹس بھی لینا چاہیے تھا۔ اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ بعض اوقات سپریم کورٹ کی طرف سے لیے گئے از خود نوٹسوں میں عدالت کا خود کا نقطۂ نظر واضح نہیں ہے۔
اس رپورٹ میں چیف جسٹس کے <link type="page"><caption> صاحبزادے ارسلان افتخار اور نجی تعمیراتی کمپنی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/08/120830_sc_arslan_case_rwa.shtml" platform="highweb"/></link> کے سربراہ ملک ریاض کے درمیان لین دین کے تنازعے پر از خود نوٹس لیا تھا اور چار ماہ تک اس کی سماعت کرنے کے بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ یہ معاملہ عوامی اہمیت کا نہیں بلکہ دو افراد کے درمیان لین دین کا معاملہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سنہ 2009 میں چیف جسٹس کے عہدے پر بحالی کے بعد از خود نوٹس کے قانون کے استعمال میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2004 میں سپریم کورٹ کو از خود نوٹس لینے کی مد میں صرف 450 درخواستیں موصول ہوئی تھی جبکہ اپریل سنہ 2010 سے دسمبر 2011 تک 90 ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

رپورٹ میں سپریم کورٹ کے ریکارڈ کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور اس کے مطابق آئین کے تحت سپریم کورٹ کو دیے جانے والے اختیار 184 کی شق (3) کے تحت 250 درخواستیں روزانہ کی بنیاد پر موصول ہر رہی ہیں۔
رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ متعدد از خود نوٹس اخباری خبروں پر لیے گئے ہیں اور اس میں بھی عوامی اہمیت کو ہی بنیاد بنایا گیا ہے۔
رپوٹ میں سپریم کورٹ میں قائم انسانی حقوق کے سیل میں سنہ 2009 سے سنہ 2012 تک دو لاکھ دس ہزار کے قریب درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ سب سے زیادہ درخواستیں سنہ 2010 میں موصول ہوئیں جن کی تعداد 60 ہزار ہے جب کہ ان درخواستوں میں سے 50 ہزار درخواستوں پر فیصلہ سُنا دیا گیا۔
جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے مختلف بینچوں نے لاپتہ افراد سے متعلق مقدمات کی سماعت کی اور اُن کی کاوشوں کی وجہ سے کچھ لاپتہ افراد بازیاب بھی ہوئے، تاہم لاپتہ افراد کے ورثا کا کہنا ہے کہ اس میں ملوث کسی شخص کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔
بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ ملک میں سیاسی کشیدگی کے علاوہ سپریم کورٹ اور سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے درمیان تعلقات کشیدہ کرنے کا بھی سبب بنا۔

اس رپورٹ میں اس بات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے بعد توہینِ عدالت کے قانون کے استعمال میں بھی اضافہ ہوا اور متعدد وکلاء، سیاست دانوں اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کو عدالت کا مذاق اُڑانے پر توہین عدالت میں اظہار وجوہ کے نوٹس بھی جاری کیے گئے۔
سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی توہین عدالت کا مرتکب قرار دے کر انھیں نااہل قرار دیا گیا تھا جس کے انھیں وزیراعظم کے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔
آئی سی جے نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اگر از خود نوٹس سے متعلق سپریم کورٹ کو دیے جانے والے اختیارات کا استعمال زیادہ کیا گیا تو اس کے کچھ نادانستہ نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں جن سے قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔







