عمران فاروق قتل:’ مطلوب افراد کی گرفتاری ریکارڈ پر نہیں‘

کراچی پولیس کی حد تک کہہ سکتا ہوں کہ اس طرح کی گرفتاری کا کوئی ریکارڈ نہیں: کراچی پولیس سربراہ

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکراچی پولیس کی حد تک کہہ سکتا ہوں کہ اس طرح کی گرفتاری کا کوئی ریکارڈ نہیں: کراچی پولیس سربراہ
    • مصنف, فراز ہاشمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں برطانوی حکام کو مطلوب دو افراد جنھیں کراچی کے ہوائی اڈے پر گرفتار کیاگیا تھا ان کی گرفتاری کا کوئی ریکارڈ کراچی پولیس کے پاس موجود نہیں ہے۔

برطانیہ کی کرؤان پروسیکیوش سروس نے ان دونوں افراد کے ڈی این اے نمونے حاصل کرنے کے لیے پاکستان حکام سے ان تک رسائی حاصل کرنے کی درخواست کی ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے برطانیہ کی کراؤن پروسیکیوشن سروس سے کسی قسم کی درخواست کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ سے رجوع کریں۔

کراچی پولیس کے سربراہ شاہد حیات نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ جن دو افراد کی جن کی شناخت محسن علی سید اور محمد کاشف خان کامران کے ناموں سے کی گئی گرفتاری کا کوئی ریکارڈ کراچی پولیس کے پاس موجود نہیں ہے۔

کراچی پولیس کے سربراہ سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا کبھی پاکستانی حکام نے ان دنوں افراد کی گرفتاری کے بارے میں کوئی بات کی ہے تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔

انھوں نے کہا: ’یہ سوال تو حکام بالا سے کیا جانا چاہیے لیکن کراچی پولیس کی حد تک وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس طرح کی کوئی گرفتار ریکارڈ پر نہیں۔‘

یاد رہے کہ پاکستانی حکام نے ان دونوں افراد کے بارے میں کبھی کچھ نہیں کہا ہے۔

برطانوی پولیس کو ڈاکٹر عمران فاروق کے اس مبینہ قاتل کی تلاش ہے

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنبرطانوی پولیس کو ڈاکٹر عمران فاروق کے اس مبینہ قاتل کی تلاش ہے

اطلاعات کے مطابق یہ دو افراد ستمبر سنہ 2010 میں اسی شام لندن سے سری لنکا روانہ ہو گئے تھے جس دن لندن کے شمالی علاقے میں ڈاکٹر عمران فاروق کو ان کے گھر کے باہر سر پر اینٹ کا وار کرکے اور پھر پیٹ میں چھری مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس نے اس قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں چار ہزار افراد سے تفتیش اور پوچھ گچھ کی ہے اور اس سلسلے میں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے بھتیجے افتخار حسین کو بھی عارضی طور پر گرفتار کرکے تفتیش کی تھی۔

اس کے علاوہ پولیس کے پاس جائے وقوعہ سے حاصل کیےگئے ڈی این اے نمونے بھی ہیں۔

بی بی سی اردو سروس نے سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے اس سلسلے میں رابطہ کرنے کے لیے کئی مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کے نمبروں سے جواب موصول نہیں ہوا۔وفاقی حکومت سے بھی رابطے کی کوششیں باور ثابت نہیں ہو سکیں۔

ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کے دوران ایم کیو ایم اور اس کے رہنماؤں کے خلاف کئی اور الزامات سامنے آئے ہیں جن میں منی لانڈرنگ اور ٹیکس نہ دینے کے الزامات شامل ہیں۔

یاد رہے کہ شمالی لندن میں الطاف حسین کے گھر اور دفتر پر چھاپوں میں پانچ لاکھ پونڈ کی نقد رقم برآمد ہوئی تھی جس کے بعد ان کے خلاف منی لانڈرنگ اور ٹیکس نہ دینے کے الزامات میں تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔