اجتماعی قبروں کی دریافت کے خلاف احتجاج

بی بی گل نے مطالبہ کیا کہ اگر لاپتہ افراد کسی جرم میں ملوث ہیں تو انھیں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے
،تصویر کا کیپشنبی بی گل نے مطالبہ کیا کہ اگر لاپتہ افراد کسی جرم میں ملوث ہیں تو انھیں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے
    • مصنف, حسن کاظمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی جانب سے بلوچستان میں اجتماعی قبروں کی دریافت، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے جاری لانگ مارچ کے شرکا کو دھمکیاں ملنے اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری فوجی آپریشن کے خلاف ایک احتجاجی جلوس نکالا۔

اس جلوس میں زیادہ تر خواتین اور بچوں شریک تھے جبکہ مردوں کی تعداد کافی کم تھی۔ یہ جلوس کراچی آرٹس کونسل سے شروع ہوکر کراچی پریس کلب پر ختم ہوا جہاں شرکا نے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔

اس موقع پر بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی چیئرپرسن بی بی گُل بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال ابتر ہے۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں خضدار کے علاقے توتک میں اجتماعی قبروں سے دریافت ہونے والی مسخ شدہ لاشیں ممکنہ طور پر ان بلوچ لاپتہ افراد کی ہوسکتی ہیں جنھیں پاکستانی ریاست کے خفیہ اداروں کی جانب سے بنائے گئے ڈیتھ سکواڈ نے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے اغوا کیا تھا۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ اگر لاپتہ افراد کسی جرم میں ملوث ہیں تو انھیں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور صفائی کا موقع دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ منگل ہی کو آواران کے علاقے مشکے میں چھاپے کے دوران کئی افراد کو اغوا کر کے غائب کر دیا گیا ہے۔

اس موقع پر انھوں نے مقامی ذرائع ابلاغ پر بھی کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی سنگین صورتِ حال کا ادراک ہونے کے باوجود مقامی میڈیا اس بارے میں خاموش ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بی بی گُل بلوچ نے کہا کہ وینا ملک کے بارے میں تو ٹی وی پر ایک ایک گھنٹے کے پروگرام چلتے ہیں مگر بلوچوں کی لاشیں گر رہی ہیں اور کوئی توجہ نہیں دے رہا۔

یاد رہے کہ بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن سمیت بلوچ قوم پرست تنظیموں کا کہنا ہے کہ خضدار کے علاقے توتک میں ملنے والی اجتماعی قبروں سے اب تک ڈیڑھ سو سے زیادہ لاشیں ملنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے پیر کو جاری اپنے ایک بیان میں 15 لاشیں ملنے کا ذ کر کیا تھا۔