خصوصی عدالت کے خلاف پرویز مشرف کی درخواستیں مسترد

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق فوجی صدر کی طرف سے اُن کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے سے متعلق قائم کی جانے والی خصوصی عدالت، اس خصوصی عدلت میں موجود ججوں اور اس مقدمے کے پراسیکوٹر کے خلاف دائر کی جانے والی تینوں درخواستیں مسترد کرد ی ہیں۔
جسٹس ریاض احمد خان پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک رکنی بینچ نے اپنے مختصر حکم نامے میں ان تینوں درخواستوں کو مسترد کردیا ہے تاہم اس فیصلے میں درخواستوں کو مسترد کیے جانے کی وجوہات نہیں بتائی گئی ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے ان تینوں درخواستوں کے مسترد ہونے کے بعد سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے 24 دسمبر کو خصوصی عدالت کے سامنے پیش ہونے کا امکان ہے۔ پرویز مشرف کے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ اس عدالتی حکم نامے کو چیلنج کریں گے۔
تین رکنی خصوصی عدالت وزیراعظم سیکرٹریٹ سے ملحقہ نیشنل لائبریری میں پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرے گی اور اس موقع پر عمارت کے اردگرد سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
یہ تین رکنی خصوصی عدالت سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس فیصل عرب، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس یاور علی اور بلوچستان ہائی کورٹ کی جسٹس طاہرہ صفدر پر مشتمل ہے۔ جسٹس فیصل عرب کو اس عدالت کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
پرویز مشرف نے اپنی درخواست میں مقدمہ سننے کے لیے بنائی گئی خصوصی عدالت کے لیے ججوں کی تقرری اور پراسکیوٹر کی تعیناتی کے طریقۂ کار کو چیلینج کیاگیا تھا۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ خصوصی عدالت کے ججوں کا چناؤ وفاقی حکومت کا کام ہے جبکہ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے پانچ نام حکومت کو بھجوائے جس کا اسے اختیار نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت کے تینوں جج پرویز مشرف کے تین نومبر کے اقدام سے متاثر ہوئے تھے اس لیے ان حالات میں مقدمے کی منصفانہ کارروائی ہوتی نظر نہیں آتی۔
اس مقدمے کے لیے بیرسٹر اکرم شیخ کو وکیلِ استغاثہ مقرر کیا گیا ہے اور پرویز مشرف کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں ان کی تقرری پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ وہ سنہ 2009 میں سابق صدر کے خلاف سپریم کورٹ میں چلائے گئے مقدمے میں بھی وکیل تھے۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ وکیلِ استغاثہ ایک جانبدار شخصیت ہیں اور اس مقدمے میں ان سے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی امید نہیں۔
سابق فوجی صدر نے دو دن قبل اس خصوصی عدالت کے اختیارات کو بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ پرویز مشرف نے تین نومبر 2007 کا اقدام بطور آرمی چیف کیا تھا اس کے لیے ان کے خلاف مقدمہ صرف آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالت میں ہی چل سکتا ہے۔
خیال رہے کہ خصوصی عدالت نے وفاقی حکومت کی جانب سے سابق فوجی حکمران جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انھیں 24 دسمبر کو طلب کیا ہے۔
حکومت نے پرویز مشرف کے خلاف آئین توڑنے اور تین نومبر سنہ 2007 کو ملک میں ایمرجنسی لگانے پر غداری کا مقدمہ شروع کرنے کی استدعا کی تھی۔ پاکستانی آئین کی دفعہ چھ کی خلاف ورزی کرنے کی سزا موت اور عمر قید ہے۔







