پشاور: قہوہ خانوں کی ثقافت خطرے میں

قصہ خوانی بازار میں پہلے کئی قہوہ خانے قائم تھے
،تصویر کا کیپشنقصہ خوانی بازار میں پہلے کئی قہوہ خانے قائم تھے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے مرکزی شہر پشاور کے بارے میں یہ عام تاثر ہے کہ جو اس شہر کی سیر کے لیے آئے اور یہاں کا تاریخی قصہ خوانی بازار نہ دیکھے اور وہاں کے روایتی قہوے یعنی سبز چائے کا مزا نہ لے تو یہ بالکل ایسا ہے جیسے اس نے کچھ نہیں دیکھا ۔

پشاور گذشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی اور شدت پسندی کا شکار رہا ہے اور اس سے کوئی بھی شعبہ ہائے زندگی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔

ان میں پشاور کے تاریخی قہوہ خانے یا چائے کی دوکانیں بھی شامل ہیں جنہیں بلاشبہ شہر کی ثقافت کا درجہ حاصل ہے۔

ان میں قصہ خوانی بازار کے قہوہ خانوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے جن کے بارے میں یہاں تک کہا جاتا ہے کہ اس بازار کا نام بھی ان ہی چائے بیچنے والے دکانوں کی وجہ سے قصہ خوانی پڑا ۔

کہا جاتا ہے کہ زمانہ قدیم میں پشاور تجارت پیشہ افراد کا مسکن ہوا کرتا تھا اور دور دراز علاقوں سے تاجر یہاں آ کر شام کے وقت قہوہ خانوں میں بیٹھ ایک دوسرے کو قصہ کہانیاں سنایا کرتے تھے جس کی وجہ سے بعد میں یہ بازار ’ قصہ خوانی’ ہی کے نام سے موسوم ہوا۔

دو ماہ پہلے قصہ خوانی بازار میں ہونے والے بم دھماکے میں پشاور شہر کا ایک تاریخی قہوہ خانہ بھی نشانہ بنا تھا جسے اب بحالی کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ اس دھماکے میں چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جب حالات اچھے تھے تو غیر ملکی بالخصوص انگریز بڑی تعداد میں آیا کرتے تھے: زر جان
،تصویر کا کیپشنجب حالات اچھے تھے تو غیر ملکی بالخصوص انگریز بڑی تعداد میں آیا کرتے تھے: زر جان

تقریباً چالیس سال پرانا اس علاقے کا یہ واحد قہوہ خانہ خان رازق پولیس سٹیشن کے قریب واقع ایک بالا خانے میں قائم کیا گیا ہے جس کی بالائی منزل پر ایک مسافر خانہ بھی بنایا گیا ہے جہاں دور دراز سے آنے والے غریب مسافر رات کے وقت قیام کرتے ہیں۔

قہوہ خانے کے مالک زر جان کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان پچھلی چھ دہائیوں سے اس کاروبار سے وابستہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قصہ خوانی بم دھماکے میں ان کے قہوہ خانے کا ایک حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا جبکہ ان سمیت چار ملازمین بھی زخمی ہوئے تھے۔

’مجھے حکومت کی طرف سے اب تک ایک پائی بھی نہیں ملی ہے۔ میں نے خود اپنی مدد اپ کے تحت قرض لے کر اس قہوہ خانے کو دوبارہ بحال کیا ہے۔‘

زر جان کے بقول ’پہلے کاروبار اچھا تھا۔ روزانہ دس سے بارہ ہزار روپے کی بکری ہوتی تھی لیکن دھماکے کے بعد سے اب ہم مسلسل نقصان میں جا رہے ہیں۔ دکان کا کرایہ بھی خود اپنی جیب سے ادا کرنا پڑ رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پشاور میں جب حالات اچھے تھے تو ان کے قہوہ خانے پر غیر ملکی بالخصوص انگریز بڑی تعداد میں آیا کرتے تھے۔

زمانہ قدیم میں پشاور تجارت پیشہ افراد کا مسکن ہوا کرتا تھا
،تصویر کا کیپشنزمانہ قدیم میں پشاور تجارت پیشہ افراد کا مسکن ہوا کرتا تھا

قصہ خوانی بازار میں پہلے کئی قہوہ خانے قائم تھے لیکن تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے باعث یہ کاروبار اب ختم ہوتا جا رہا ہے۔

قصہ خوانی بازار کے ایک باشندے ممتاز عسکری کا کہنا ہے کہ پہلے شہر میں قہوہ خانوں کی تعداد زیادہ تھی لیکن اب ان کی جگہ دوا خانوں نے لے لی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ اس شہر کی روایت ہے کہ شام کے وقت لوگ گھروں سے باہر نکل کر قہوہ خانوں میں بیٹھا کرتے تھے اور وہاں گپ شپ اور ملکی حالات پر گفتگو کیا کرتے تھے لیکن اب حالات بڑے حد تک تبدیل ہوگئے ہیں۔‘

انہوں نے شکوہ کیا کہ قہوہ خانے اس شہر کا قومی ورثہ ہیں لیکن حکومت کی طرف سے اسے محفوظ بنانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔