جنرل کی چھڑی

فوجی افسر کی یہ چھڑی ٹوٹ بھی جائے تو اس کی اہمیت کم نہیں ہوتی
،تصویر کا کیپشنفوجی افسر کی یہ چھڑی ٹوٹ بھی جائے تو اس کی اہمیت کم نہیں ہوتی
    • مصنف, تابندہ کوکب گیلانی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستانی فوج میں بریگیڈیئر اور اس سے اوپر کے عہدے میں ترقی پانے والے ہر افسر کو ایک چھڑی سونپی جاتی ہے۔

’بیٹن‘ کہلانے والی یہ چھڑی کسی عہدے کی ذمہ داریوں کی منتقلی کا علامتی نشان ہوتی ہے۔

جمعے کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اپنے عہدے کی ذمہ داریاں نئے فوجی سربراہ راحیل شریف کو سونپیں گے یعنی پاکستانی فوج کی قیادت کی یہ چھڑی اب جنرل راحیل شریف کے ہاتھ میں ہوگی۔

چھڑی کی کہانی ہے کیا؟ یہ کہاں سے آئی اور کون لایا؟

دفاعی تجزیہ کار اور فوج سے ریٹائرڈ بریگیڈیئر شوکت قادر بتاتے ہیں کہ کمان کی یہ چھڑی انگریز لائے تھے اور جبھی سے یہ روایت کا حصہ چلی آ رہی ہے۔

کیا اس علامت کو فوج سے وابستہ کسی ہتھیار یعنی تلوار یا بندوق سے تبدیل کرنے کی کوشش یا خواہش نہیں کی گئی؟

بریگیڈیئر شوکت قادر کہتے ہیں کہ وہ شاید اس سے زیادہ وضاحت نہ کرسکیں کہ ’انگریز ایک علامت دے گئے اور ہم اسی کی پیروی کرتے رہے۔‘

بیٹن سنگاپور سے منگوائے گئے ’ملاکا کین‘ سے تیار کی جاتی ہے اور ون سٹار افسر یعنی بریگیڈیئر سے اوپر کے افسران کو ملنے والی یہ چھڑی ہر نئے آنے والے افسر کو پرانا افسر سونپتے ہوئے ایک نئی چھڑی تھامے نئے عہدے پر ترقی کر جاتا ہے۔

فوجی افسر کی یہ چھڑی ٹوٹ بھی جائے تو اس کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔

شوکت قادر بتاتے ہیں کہ ماضی میں ایک فوجی افسر نے اپنی بیوی کے اغواکار کی پٹائی کرتے ہوئے اس کے کندھے پر اپنی چھڑی توڑ دی تھی اور جب اسے یہ عہدہ دوسرے افسر کو سونپنا پڑا تو انہوں نے وہی ٹوٹی ہوئی چھڑی انہیں دی تھی۔

شوکت قادر کے بقول یہ بات فوج کے ریکارڈ پر ہے۔

تو کیا ایک بریگیڈیئر کی چھڑی اور جنرل کی چھڑی میں ساخت، حجم یا شباہت کے لحاظ سے کوئی فرق ہوتا ہے؟

برگیڈیئر ریٹائرڈ شوکت قادر کہتے ’چھڑی کی اہمیت صرف علامتی ہے اور یہ محض افسر کی شخصیت میں مزید رعب اور دبدبہ ظاہر کرتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اہمیت عہدے کی اور ان ذمہ داریوں ہوتی ہے جو ایک افسر نئے افسر کو سونپ کر جاتا ہے۔

جمعے کو جنرل اشفاق پرویز کیانی بظاہر یہی علامتی چھڑی جنرل راحیل شریف کو سونپیں گے لیکن درحقیقت وہ شدت پسندی کے خلاف جنگ، طالبان سے مذاکرات، بھارت سے بہتر تعلقات اور غیر ملکی افواج کی افغانستان سے واپسی کے بعد مغربی سرحدوں کے حوالے سے افغانستان کے ساتھ پرامن تعلقات جیسے کئی معاملات کی ذمہ داری ان کے سپرد کریں گے۔