پنجاب کی صنعتوں کو تین ماہ گیس نہیں ملے گی: وزیر پیٹرولیم

آئندہ برس صورتِ حال کچھ بہتر ہو گی: شاہد خاقان عباسی
،تصویر کا کیپشنآئندہ برس صورتِ حال کچھ بہتر ہو گی: شاہد خاقان عباسی
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ دسمبر سے فروری تک صوبہ پنجاب میں کسی بھی صنعت کو قدرتی گیس فراہم نہیں کی جائے گی تاکہ گھریلو صارفین کو اس ایندھن کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ حکومت کے گیس مینیجمنٹ منصوبے کے مطابق تین ماہ کے لیے صوبہ پنجاب میں گیس صرف گھریلو صارفین کے لیے دستیاب ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ باقی صوبوں میں صنعت اور سی این جی کو بھی معمول کے مطابق گیس فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

’پنجاب میں سوائے گھریلو صارفین کے کسی کے لیے گیس مہیا نہیں ہو پائے گی۔ اس میں سی این جی بھی ہے، انڈسٹری بھی ہے، فرٹیلائزر بھی ہے، کیپٹو پاور پلانٹس (گیس سے بجلی بنانے والے کارخانے) بھی ہیں اور جو دیگر پاور سیکٹر ہے، وہ بھی اس میں شامل ہے۔‘

اس کے باوجود وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ بات یقینی نہیں ہے کہ گھریلو صارفین کو بھی ان تین مہینوں کے دوران بلا تعطل گیس فراہم کی جاتی رہے گی۔

’مجھے یقین ہے کہ ہم گھریلو صارفین کو گیس بلا تعطل فراہم کرنے کے قابل ہوں گے۔ لیکن سردی اگر زیادہ بڑھ جائے اور ساتھ ہی گیس کی طلب بھی بہت زیادہ ہو جائے تو شاید کچھ دنوں کے لیے کہیں گیس کی فراہمی میں تعطل آ جائے۔‘

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پنجاب کے مقابلے میں دیگر صوبوں میں گیس فراہمی کی صورتحال خاصی مختلف ہو گی۔

’آئین کے تحت جس صوبے میں گیس پیدا ہو رہی ہو اس کا اس گیس پر پہلا حق ہوتا ہے۔ پیداوار کے لحاظ سے بلوچستان پہلے اور سندھ دوسرے نمبر پر ہے۔ جبکہ پنجاب میں سب سے کم گیس پیدا ہوتی ہے اس لیے لوڈشیڈنگ بھی سب سے زیادہ اسی صوبے میں ہو گی۔‘

وفاقی وزیر نے کہا کہ بلوچستان کو تو صنعتی اور گھریلو ہر طرح کی گیس بلاتعطل ملتی رہی گی۔اسی طرح صوبہ سندھ میں بھی بیشتر دنوں میں تمام شعبوں کو گیس ملے گی۔

’خیبر پختونخوا کو گیس کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہو گا لیکن اس میں بھی کچھ دنوں کے لیے سی این جی اور صنعتوں کو گیس ملتی رہے گی۔ پنجاب وہ واحد صوبہ ہے جہاں تین مہینے تک گھریلو صارفین کے علاوہ کسی کو گیس نہیں ملے گی۔‘

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ماضی میں کیے گئے ریاستی فیصلوں کے مطابق گیس فراہم کرنے کے لیے گھریلو صارفین پہلی اور صنعت دوسری ترجیح ہیں۔

’اگر کسی کو اس ترجیح پر اعتراض ہے تو وہ سپریم کورٹ میں جائے۔ آئین کی تشریح عدالت کا کام ہے۔ اگر وہ کہتی ہے کہ یہ ترجیح درست نہیں تو ہم اس کے حکم کے مطابق نئی ترجیحی فہرست بنا سکتے ہیں۔‘

سی این جی مالکان کی تنظیم سے گیس بندش پر احتجاج اور مقدمے کی دھمکی پر وفاقی وزیر کا سیدھا سا جواب تھا: ’ہمارے پاس گیس ہے ہی نہیں تو عدالت اور احتجاج کی دھمکی کے جواب میں بھی ہم کیا کر سکتے ہیں۔‘

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آئندہ برس صورتِ حال کچھ بہتر ہو گی۔

تفصیل بتاتے انہوں نے کہا کہ آئندہ سال سریوں کی آمد سے قبل ملک میں درآمد شدہ مائع قدرتی گیس یا ایل این جی دستیاب ہو گی۔

پاکستان میں توانائی کا بحران گذشتہ کئی سالوں سے جاری ہے جس میں گرمیوں میں بجلی کی قلت اور موسم سرما میں قدرتی گیس کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں توانائی کا بحران گذشتہ کئی سالوں سے جاری ہے جس میں گرمیوں میں بجلی کی قلت اور موسم سرما میں قدرتی گیس کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

’ہم نے پانچ سو مکعب فٹ روزانہ گیس درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ گیس اگلے سال نومبر سے پہلے دستیاب ہو گی۔اس گیس سے ہم صنعت کو مکمل طور پر اور سی این جی اور کھاد کے کارخانوں کو جزوی طور پر گیس فراہم کر سکیں گے۔‘

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ان کی حکومت کو اچھی طرح معلوم ہے کہ پنجاب کی صنعتوں کو تین ماہ تک گیس بند کرنے کا معاشی نقصان کتنا بڑا ہو گا۔

’اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ملکی معیشت کو اس بندش کا بے پناہ نقصان ہو گا۔ لیکن ہمارے پاس کوئی متبادل راستہ بھی نہیں ہے۔ پاکستان میں اس وقت گیس درآمد نہیں ہو رہی اور جو پائپ لائن منصوبے زیر تعمیر ہیں ان میں بھی کم از کم دو تین سال لگیں گے، اور جو گیس مقامی طور پر پیدا کی جا رہی ہے، وہ ضرورت سے کہیں کم ہے۔‘