سوات:تعلیمی اداروں کی بحالی سست روی کا شکار

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سوات
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی وادی سوات میں طالبان کے دور میں جس طرح سکولوں پر حملوں اور خواتین کے تعلیم پر پابندی لگانے سے تعلیمی شعبے کو ناقابل تلافی نقصان پہچانے کی کوشش کی گئی اسی رفتار سے اب لوگوں میں تعلیم کی جانب رحجان میں بھی تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
محکمۂ تعلیم سوات کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال وادی میں ایک لاکھ کے قریب بچوں کو سکولوں میں داخل کیا گیا تھا جبکہ اس سال یہ تعداد مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سوات کی ضلعی ایجوکیشن افسر برائے خواتین دلشاد بیگم کا کہنا ہے کہ چار سال پہلے جب طالبان کی طرف سے لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی لگانے کا اعلان کیا گیا تو ان دنوں تقریباً پچاس فیصد تک بچیوں نے سکول جانا بند کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس قت ہر طرف ایک شدید خوف کی کیفیت تھی جس سے تعلیم کے شعبے سے منسلک تمام افراد کو مشکلات کا سامنا تھا۔
دلشاد بیگم نے کہا کہ تعلیمی اداروں پر حملوں اور پابندیوں سے نقصان ضرور ہوا لیکن اس کا ایک طرح سے فائدہ بھی ہوا کیونکہ ان حملوں کے باعث اب سوات بلکہ پورے ملاکنڈ ڈویژن میں لوگوں کی تعلیم کی طرف توجہ میں اضافہ ہوا ہے۔
دلشاد بیگم کے بقول ’عام طورپر یہ دیکھا گیا ہے کہ جس چیز کو زیادہ دبا کر رکھا جاتا ہے وہ جب کچھ عرصہ کے بعد باہر نکلتی ہے تو پھر وہ بڑے زور سے حرکت کرتی ہے بالکل ایسا ہی منظر اب سوات اور دیگر اضلاع میں نظر آ رہا ہے‘۔
ان کے مطابق گزشتہ تین سالوں سے علاقے میں لوگوں کی دلچسپی تعلیم کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کا اندازہ بچوں کے سکولوں میں داخلے کی شرح سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے سال لک بھگ ایک لاکھ بچوں کو سکولوں میں داخل کیا گیا تھا جبکہ اس سال یہ تعداد مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں سال میں اب تک سب سے زیادہ بچے ضلع پشاور میں داخل کیے گئے ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر ان اعداد و شمار میں سوات کا نام آتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تقریباً چار سال تک شدت پسندی سے متاثرہ ضلع سوات میں طالبان کی طرف سے چار سو سے زائد تعلیمی اداروں کو بم دھماکوں یا آگ لگا کر تباہ کیا گیا۔ تباہ کیے جانے والے بیشتر سکولوں کو بحال کر دیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اب بھی کئی ایسے سکولز موجود ہیں جو زیر تعمیر ہیں۔
اس کے علاوہ ایسے تعلیمی ادارے بھی ہیں جو بدستور تباہ حالت میں پڑے ہوئے ہیں اور جن پر ابھی تک حکومت یا دیگر اداروں کی طرف سے کام کا آغاز بھی نہیں کیا جا سکا ہے۔ ایسے سکول زیادہ تر پہاڑی علاقوں میں واقع ہے جہاں کام شروع کرنے سے قبل سروے کیا جاتا ہے لیکن وہ بھی نہیں کیے جا سکے ہیں۔
سوات کے اکثر باشندوں کا کہنا ہے کہ چار سال کا لمبا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی تعلیمی اداروں کی تعمیرنو او بحالی کا کام انتہائی سست روی کا شکار ہے۔

سوات کے سینیئر صحافی سلیمان یوسف زئی کے مطابق وادی میں جس طرح تعلیمی شعبہ کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی گئی حکام کی جانب سے اس طرح کی سنجیدگی اب اس کی بحالی میں نہیں دکھائی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ مینگورہ شہر کے قریب بھی ایسے زیرِتعمیر سکولز ہیں جن کو ایک سال پہلے مکمل کیا جانا تھا لیکن وہ ابھی تک تعمیر کے مراحل میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو تباہ شدہ سکولوں کی تعمیر نو ایمرجنسی بنیادوں پر مکمل کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں مزید ترقی بھی ہونی چاہیے تاکہ اس کمی کو پورا کیا جا سکے۔ ان کے مطابق گزشتہ چند سالوں کے دوران سواتی عوام کا جتنا نقصان ہوا ہے اب اس کا ازالہ بھی ہونا چاہیے کیونکہ خالی نعروں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا‘۔







