’پائلٹ نے حد سے زیادہ پی رکھی تھی‘

پاکستان ایئر لائنز کے پائلٹ نے پی آئی اے کی برطانیہ سے پاکستان جانے والی پرواز اڑانے سے قبل نشے کی حالت میں ہونے کا الزام قبول کر لیا ہے۔
برطانیہ کے شہر لیڈز میں عدالت کو بتایا گیا کہ چون سالہ پائلٹ عرفان فیاض کو برطانیہ کے لیڈز بریڈفورڈ ایئرپورٹ میں پی آئی اے کے جہاز کے کاکپٹ سے گرفتار کیا گیا۔
لیڈز میں مجسٹریٹ کو بتایا گیا کہ پاکستان جانے والی فلائٹ سے پہلے پائلٹ عرفان فیض سے شراب کی بو آ رہی تھی اور ان کے قدم لڑکھڑا رہے تھے۔
انہیں لیڈز کراؤن کورٹ میں اٹھارہ اکتوبر کو دوبارہ پیش کیا جائے گا اور وہ اس وقت تک حراست میں رہیں گے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ انہوں نے پرواز کے لیے مقرر کردہ حد سے ساڑھے چار گناہ زیادہ پی رکھی تھی۔
اعتراف جرم کے بعد مجسٹریٹ نے ان سے مخاطب ہو کر کہا کہ انہوں نے ’عوام کے اعتماد کو توڑا ہے‘ اور اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہو سکتا تھا۔
یو کے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’شراب یا منشیات کے نشے میں جہاز اڑانے کی کوشش کرنا فلائٹ کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’برطانیہ کے ہوائی اڈوں پر پولیس کے پاس یہ قانونی اختیار ہے کہ وہ پائلٹوں کا شراب یا منشیات کے لیے ٹیسٹ کر سکتے ہیں۔ تاہم ایسے واقعات بہت کم ہوتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عرفان فیض برطانیہ سے پاکستان جانے والی پی آئی اے کی ایئربس کے عملے کا حصے تھے اور ان کی گرفتاری کے بعد اس پرواز میں کئی گھٹٹوں کی تاخیر ہوئی۔







