پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل کمی

    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے مرکزی بینک کے سربراہ یاسین انور نے کہا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران پاکستان میں زرِمبادلہ کی آمد کی رفتار تیز رہے گی جس کے باعث روپے کی قدر میں مزید کمی کے بجائے اضافہ متوقع ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

گذشتہ روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں اوپن مارکیٹ میں پاکستانی روپے کی قدر ایک سو سات روپے فی ڈالر تک گر گئی تھی جو اب تک پاکستانی روپے کی سب سے کم قیمت ہے۔

گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی اوپن مارکیٹ کا کرشمہ ہے اور اس میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔

’روپے کی قدر میں جو حالیہ کمی ہے اس میں پریشان ہونے یا گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ مارکیٹ فورسز کی وجہ سے ہے نہ کہ حکومت کی اپنی مرضی سے۔‘

<link type="page"><caption> افواہوں کی منڈی یا حقیقی معیشت کی عکاس</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/06/130606_khi_stocks_rise_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

گورنر سٹیٹ بینک نے اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی کہ حکومت جان بوجھ کر روپے کی قدر میں کمی کر رہی ہے۔ اس کی وجہ بعض ماہرین بین الاقوامی مالیاتی ادارے یا آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کو قرار دیتے ہیں جس کے تحت بعض ماہرین کے مطابق حکومت روپے کی قدر کو ایک سو چودہ روپے تک گرانا چاہتی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی ان اطلاعات کی تردید کر چکے ہیں کہ روپے کی قدر میں کمی سرکاری پالیسی کا حصہ ہیں۔

1947 سے 19 ستمبر 2013 تک ایک ڈالر کے مقابلے پر پاکستانی روپے کی قدر کا تقابل۔ (ماخذ: سٹیٹ بینک آف پاکستان۔ واضح رہے کہ 1947 تا 1981 تک کا ڈیٹا مکمل نہیں ہے۔)
،تصویر کا کیپشن1947 سے 19 ستمبر 2013 تک ایک ڈالر کے مقابلے پر پاکستانی روپے کی قدر کا تقابل۔ (ماخذ: سٹیٹ بینک آف پاکستان۔ واضح رہے کہ 1947 تا 1981 تک کا ڈیٹا مکمل نہیں ہے۔)

معاشی ماہر اسد سعید کہتے ہیں کہ روپے کی قدر میں اتنی زیادہ اور اچانک کمی سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا لہذا یہ کہنا کہ حکومت خود روپے کی قدر میں کمی کرنا چاہتی ہے، بظاہر درست معلوم نہیں ہوتا۔

’اتنی تیزی سے روپے کی قدر میں کمی ہونے سے حکومت، صنعت اور عوام، سب کو نقصان ہوگا کیونکہ مہنگائی بڑھے گی، درآمدات میں جو اضافہ ہو گا وہ بھی افراطِ زر کی نذر ہو جائے گا لہٰذا نہ حکومت کے ہاتھ کچھ آئے گا اور نہ ہی برآمد کنندگان کو طویل مدت میں کوئی فائدہ ہو گا۔”

پاکستانی روپے کی قدر میں جون سے اب تک نو روپے کی کمی ہو چکی ہے جو دس فیصد سے بھی زائد بنتی ہے۔

اسد سعید کہتے ہیں کہ اتنی کم مدت میں اتنی زیادہ بے قدری ملکی معیشت میں شدید کمزوریوں کی نشاندہی کرتی ہے۔

تاہم سٹیٹ بینک کے گورنر نے جمعرات کے روز صحافیوں کو بتایا کہ آئندہ چند ہفتوں میں پاکستان میں مختلف بیرونی ذرائع سے ڈالرز آئیں گے جس کے بعد روپے پر دباؤ کم ہو جائے گا۔

’میں وہ تمام ذرائع تو آپ کو نہیں بتاؤں گا لیکن اسلامی ترقیاتی بنک، آئی ایم ایف اور بعض دیگر ذرائع سے خاصی رقم پاکستانی خزانے میں آئے گی جس کے بعد روپے کی قیمت مستحکم ہو جائے گی۔‘

اسد سعید کہتے ہیں کہ یہ دعوے طویل مدت میں تو شائد درست ہوں لیکن فوری طور پر پاکستانی روپے پر مزید دباؤ آئے گا۔

’آئندہ چند ہفتوں کے دوران حجاج کرام بڑی تعداد میں ڈالر اوپن مارکیٹ سے خریدیں گے جس سے روپے پر دباؤ بڑھے گا اور اس کی قدر میں مزید کمی ہو سکتی ہے۔‘

روایتی طور پر پاکستان سے حج کی غرض سے سعودی عرب جانے والے افراد پچہتر کروڑ ڈالر مارکیٹ سے خریدتے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ حکومت اگر روپے کی قدر میں کمی کرنے کے عزم پر عمل نہیں بھی کر رہی تو بھی، اس کی طرف سے روپے کی قدر میں ہونے والی کمی کو روکنے کی کوئی سنجیدہ کوشش بھی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔

اس کی ایک وجہ حکومت کی نیت سے زیادہ وسائل کی کمی بتائی جاتی ہے۔