مشرف پر حملے کے ملزم کا جیل چھوڑنے سے انکار

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سنہ 2003 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار شخص کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا ہے۔
ادھر رہا ہونے والے شخص رانا فقیر حسین نے جیل سے باہر آنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں خدشہ ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار انھیں مار دیں گے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ استغاثہ اور سرکاری گواہان وقوعہ کے وقت رانا فقیر کی جائے حادثہ پر موجودگی ثابت نہیں کر سکے۔
<link type="page"><caption> مشرف حملہ: اپیلیں مسترد</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/03/060328_musharraf_attack_na.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> فوجی عدالتوں پر اختیارنہیں: کورٹ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/09/060925_mush_hearing_sc_ra.shtml" platform="highweb"/></link>
عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ استغاثہ یہ بھی ثابت نہیں کرسکا کہ سابق صدر کے پروٹوکول کی جن گاڑیوں پر حملہ ہوا اس میں صدر پرویز مشرف موجود بھی تھے یا نہیں۔
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج چوہدری حبیب الرحمن نے بدھ کو رانا فقیر محمد کی بریت کی درخواست کی سماعت کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس موقع پر ملزم کے وکیل انعام رحیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کو گزشتہ آٹھ سال سے حراست میں رکھا ہوا ہے اور اس عرصے کے دوران ایسا ایک بھی گواہ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا جو یہ ثابت کرسکے کہ ان کا موکل راولپنڈی کے علاقے جھنڈا چیچی میں اس جگہ موجود تھا جہاں اس وقت کے آرمی چیف اور صدر پرویز مشرف کی گاڑیوں پر خودکش حملے کیے گئے تھے۔
عدالت نے اس مقدمے کے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں کہ جس صدارتی قافلے پر حملہ کیا گیا اس میں پرویز مشرف موجود تھے؟
سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ اس بارے میں سابق صدر کے ملٹری سیکرٹری اور صدر کے اے ڈی سی نے اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کو یہ نہیں بتایا کہ پرویز مشرف حملے کے وقت کس روٹ سے اسلام آباد سے آرمی ہاؤس جا رہے تھے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے عدم ثبوت کی بنا پر رانا فقیر کو اس مقدمے سے بری کرتے ہوئے ان کی رہائی کے احکامات جاری کیے۔
خفیہ اداروں نے رانا فقیر کو اس حملے میں ملوث افراد کی معاونت کرنے کے الزام میں سنہ 2003 میں گرفتار کیا تھا لیکن عدالت میں جمع کروائے گئے ریکارڈ میں ملزم کی گرفتاری سنہ 2005 میں ظاہر کی گئی تھی۔
اس مقدمے میں رانا فقیر کے خاندان کے تیرہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جس میں تین ماہ کا بچہ بھی شامل تھا جسے چار سال تک اٹک قلعے میں رکھا گیا تھا۔
رانا فقیر کے وکیل انعام الرحیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے موکل نے جیل سے باہر آنے سے انکار کردیا ہے کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ جیل سے باہر آنے کے بعد خفیہ اداروں کے اہلکار انھیں اٹھا کر لے جائیں گے اور مار دیں گے۔
رانا فقیر کے وکیل نے اپنے موکل کی حفاظت کے لیے راولپنڈی کی انتظامیہ کو درخواست دی ہے تاہم ضلعی انتظامیہ کی طرف سے اس درخواست پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
پرویز مشرف حملہ کیس میں اب صرف ایک ملزم گرفتار ہے جس کا نام رانا نوید ہے اور وہ رانا فقیر کا بیٹا ہے۔
فوجی عدالت نے اس مقدمے میں رانا نوید کو پہلے عمر قید کی سزا سنائی تھی جسے بعدازاں سزائے موت میں تبدیل کردیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے فوجی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے رانا نوید کی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔







