بلوچستان: اکبر بگٹی کی برسی پر شٹر ڈاؤن ہڑتال

پاکستان کے مرحوم بلوچ رہنما نواب اکبرخان بگٹی کی ساتویں برسی کی مناسبت سے پیر کو بلوچستان کے اکثر علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جارہی ہے۔
ہڑتال کی کال بلوچ ریپبلیکن پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی نے دی ہے۔اس موقع پر کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان جمہوری وطن پارٹی اور دیگرسیاسی جماعتوں کے علاوہ بلوچ طلبہ تنظیموں کی جانب سے تعزیتی ریفرنسز کا اہتمام بھی کیا جارہا ہے
اکبر بگٹی کی برسی پر کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ نواب بگٹی کو 26 اگست 2006 کو کوہلو کے پہاڑی علاقے تراتانی میں ایک فوجی کاروائی میں ہلاک کیا گیاتھا۔ان کی ہلاکت کے بعد بلوچستان کے حالات مزید خراب ہوئے اور پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
نواب بگٹی کے قتل کا مقدمہ کوئٹہ کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت میں چل رہا ہے۔
قتل کا یہ مقد مہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف ، سابق وزیراعظم شوکت عزیز ،سابق گورنر بلوچستان اویس احمد غنی، سابق وزیر اعلیٰ جا م محمد یوسف اور سابق وفاقی و صوبائی وزراء آفتاب احمدخان شیرپاؤ ، میر شعیب نوشیروانی اور سابق ڈی سی او ڈیرہ بگٹی عبدالصمد لاسی کے خلاف درج کیا گیا تھا۔
نواب بگٹی کے قتل کا مقدمہ ان کے صاحبزادے نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کی درخواست پر 2009 میں بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم پر درج کیا گیا تھا۔ جام یوسف کا نام ان کی موت کے بعد اس مقدمے سے خارج کردیا گیا۔
واضح رہے کہ نواب اکبر بُگٹی کے قتل کے مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو جون میں باقاعدہ طور پر گرفتار کرلیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پر مشتمل ایک رکنی بنچ نے چوبیس اگست کو سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے اکبر بگٹی قتل کیس کی سماعت اسلام آباد منتقل کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔







