اسماعیلیوں کے مرکز پر بم حملہ، 2 ہلاک

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اسماعیلی برادری کے مرکز پر دستی بم کے حملے میں دو افراد ہلاک اور تیس سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ حملہ منگل کی رات کریم آباد کے علاقے میں واقع جماعت خانے پر کیا گیا۔
پولیس کے مطابق دستی بم پھٹنے سے ایک خاتون اور ایک بچہ ہلاک اور خواتین اور بچوں سمیت 30 سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کراچی کے ہی ایک اور علاقے میٹروول میں بھی اسماعیلی برادری کے ایک جماعت خانے کے قریب ایک دھماکہ ہوا جس میں دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
خیال رہے کہ کراچی میں اسماعیلی شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کی قابلِ ذکر تعداد آباد ہے اور ماضی میں وہ اس قسم کی کارروائیوں سے محفوظ رہے ہیں۔
کراچی کے علاوہ صوبہ سندھ کے مختلف شہروں سے منگل کی شب کریکر دھماکوں کی اطلاعات ملی ہیں۔
حیدرآباد سے صحافی علی حسن کے مطابق شہر میں حیدر چوک، لطیف آباد اور لبرٹی مارکیٹ کے علاقوں میں یومِ آزادی کی مناسبت سے پاکستانی پرچم اور دیگر آرائشی سامان فروخت کرنے والے تین سٹالوں کو کریکر کے حملوں کا نشانہ بنایا گیا اور ان پر فائرنگ بھی کی گئی۔
حیدرآباد کے ایس ایس پی ثاقب اسماعیل میمن کا کہنا ہے کہ صوبے میں ایک علیحدگی پسند تنظیم نے پاکستان کے یوم آزادی کو بطور یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے اور بظاہر یہ حملے بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حیدرآباد کے علاوہ ضلع نوشہرو فیروز میں محراب پور کے مقام پر ریل کی پٹری پر دھماکہ کیا گیا جبکہ نواب شاہ، لاڑکانہ، دادو اور جامشورو سے بھی کریکر کے دھماکوں کی اطلاعات ملی ہیں۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی نے منگل کو رات گئے خبر دی ہے کہ سندھ میں مختلف مقامات پر ہونے والے ان دھماکوں کے بعد رینجرز نے کارروائی کر کے ان واقعات میں ملوث تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔







