چوہدری محمد سرور پنجاب کے نئے گورنر

- مصنف, شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے چوہدری محمد سرور کو صوبہ پنجاب کا گورنر مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
صدر نے یہ فیصلہ بدھ کو رات گئے وزیراعظم پاکستان کی ایڈوائس پر کیا ہے۔
چوہدری محمد سرور تین بار گلاسکو سے برطانوی پارلیمان کے رکن منتخب ہوئےجبکہ گزشتہ انتخابات میں انہی کی نشست پر ان کے بیٹے انس سرور نے کامیابی حاصل کی۔
<link type="page"><caption> پنجاب کے گورنر لطیف کھوسہ مستعفی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/12/121222_governor_punjab_resigns_rk.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کر دیا گیا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/01/110104_salman_taseer_dead_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
چوہدری محمد سرور مسلم فرینڈ آف لیبر کے بانی چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ برطانیہ میں اپنے قیام کے دوران چوہدری سرور پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتے رہے۔
چونتیس برس پہلے ٹوبہ ٹیک سنگھ سے برطانیہ منتقل ہونے والے چوہدری سرور کو ہاوس آف کامنز کی تاریخ میں پہلا مسلمان رکن ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مسلم لیگ نون کے برسراقتدار آنے کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ چوہدری سرور کو کسی اہم سرکاری عہدے پر تعینات کیا جائے گا۔
یہ بھی اطلاعات تھیں کہ انھیں برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر نامزد کیا جا رہا ہے تاہم چند روز پہلے چوہدری سرور پاکستان پہنچے اور انھوں نے لاہور ائیر پورٹ پر میڈیا کو بتایا کہ انھوں نے برطانوی شہریت ترک کر دی ہے اور اب وہ سیاست کے میدان میں پاکستان کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔
تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انھوں نے سماجی خدمات سرانجام دی ہیں اور اگر انھیں کوئی سیاسی ذمےداری دی گئی تو وہ ان شعبوں میں بہتری کے لیے کام کریں گے۔
چند روز پہلے مسلم لیگ ن کی قیادت نے سینئیر پارٹی راہنماوں کو اس فیصلے کے حوالے سے اعتماد میں لیا ہے تاہم سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ماضی میں چوہدری سرور کا مسلم لیگ ن سے کوئی براہ راست تو تعلق نہیں رہا اس لیے بحثیت گورنر ان کی تعیناتی کو نوازشریف کی ذاتی تعیناتی کے طور پر ہی لیا جا سکتا ہے۔
لیکن چونکہ یہ فیصلہ نوازشریف کا ہے اس لیے پارٹی اس کو کھلے عام تنقید کا نشانہ نہیں بنائے گی تاہم اس فیصلے سے مسلم لیگ نون کے وفادار رہنماوں اور پرانے کارکنوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کے مطابق ’مسلم لیگ ن میں کارکنوں کو اس فیصلے پر تحفظات ہیں لیکن وہ آف دی ریکارڈ اظہار خیال کرتے ہیں کھل کر بات نہیں کرتے۔ صدر کا فیصلہ بھی نواز شریف کا ذاتی تھا اور وہ (ممنون حسین) بھی کوئی وزن والی سیاسی شخصیت نہیں تھے اور محمد سرور بھی برطانوی سیاست میں متحرک رہے ہیں لیکن پاکستانی سیاست میں کبھی نمایاں نہیں رہے۔ ان کی بحثیت گورنر تعیناتی نوازشریف کا ذاتی فیصلہ ہے‘۔
چوہدری سرور کی تقرری سے پہلے یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ شاید گورنر کا عہدہ جنوبی پنجاب کو دیا جائے گا۔ اس فیصلے سے جنوبی پنجاب کے سیاسی حلقوں میں بھی مایوسی پائی جاتی ہے۔
حسن عسکری رضوی کہتے ہیں’اس طرح کی تعیناتیوں میں علاقائی نمائندگی کا خیال رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ لیکن یہ نواز شریف کا انداز ہے وہ ذاتی پسند پر فیصلے کر لیتے ہیں۔ ایسے فیصلے اس وقت تو چل جاتے ہیں جب آپ کا سیاسی زور ہوتا ہے لیکن جیسے ہی یہ زور ختم ہوتا ہے ایسی تعیناتیاں کوئی اچھا اثر نہیں چھوڑتیں‘۔
ویسے تو زیادہ انتظامی اختیارات وزیراعلیٰ کے پاس ہونے کے باعث گورنر کا عہدہ کافی حد تک ایک نمائشی عہدہ ہے تاہم یہ عہدہ بہت سے معاملات میں اہمیت رکھتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ چوہدری سرور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے امور چلانے میں برطانیہ میں ہونے والی سیاسی تربیت اور تجربے کو استعمال میں لائیں گے۔
چوہدری سرور صحت اور تعلیم کے شعبے میں پاکستان میں خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔بحثیت گورنر بھی انھوں نے تعلیم خاص طور پر سکول نہ جانے والے لاکھوں بچوں کے لیے کام کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
گیارہ مئی کے عام انتخابات کے ایک دن بعد پنجاب کے گورنر مخدوم احمد محمود نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ مخدوم احمد محمود کو پیپلز پارٹی کے رہنما سردار لطیف خان کھوسہ کی جگہ گزشتہ برس گورنر پنجاب مقرر کیا گیا تھا جبکہ سردار لطیف کھوسہ کو اپنے ہی سرکاری محافظ کے ہاتھوں قتل ہونے والے سلمان تاثیر کی جگہ گورنر مقرر کیا گیا تھا۔







