کراچی کے شہری رینجرز کے نشانے پر

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
غلام حیدر کا پورا خاندان صدمے سے دوچار ہے، ماں کو یقین نہیں آتا کہ اس کا جواں سال بیٹا اب اس دنیا میں نہیں رہا۔
غلام حیدر کی بیس روز پہلے ہی شادی ہوئی تھی اور اب ان کی والدہ مبارک باد کے بجائے تعزیت وصول کر رہی ہیں۔
اپنے بیٹے کی شادی کی تصاویر آگے بڑھاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس کو دیکھو، یہ معصومیت دیکھ کر پتھر دل انسان بھی پگھل جائے گا، اس کا کیا قصور تھا۔ ’میں سارا دن تڑپتی ہوں، نماز پڑھتی ہوں تو کپکپی طاری ہو جاتی ہے، ماں ہوں میں کیا کروں‘۔
عبدالسلام رونجھو گردے کے عارضے میں مبتلا ہیں، وہ ہر ماہ اپنے کزن غلام حیدر کے ساتھ ڈائیلائسز کرانے جاتے تھے، گزشتہ ماہ چار جون کو وہ ہپستال سے واپس گھر جا رہے تھے کہ شاہ فیصل کالونی کے پاس ان کی کار سے موٹر سائیکل ٹکرا گئی اور انہوں نے رینجرز کی موجودگی میں زخمی کو ہپستال روانہ کیا۔
’ کوئی مسئلہ نہیں تھا، ایمبولینس جیسے چلی تو، غلام حیدر نے اپنی کار سٹارٹ کی، آٹھ دس میٹر دور ہی ہوں گئے تو دھماکے کی آواز آئی، انہوں نے سمجھا کہ شاید پیچھے سے کسی گاڑی نے ٹکر مار دی ہے، لیکن گاڑی فٹ پاتھ سے ٹکرا گئی، انہوں نے اپنے بھائی کی طرف دیکھا تو وہ لہولہان تھا۔
<link type="page"><caption> اختیارات طویل عرصے تک چاہتے ہیں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/09/110906_rangers_powers_fz.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> سرفراز شاہ کیس:رینجرز اہلکاروں کو موت اور عمر قید کی سزائیں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/08/110812_rangers_sarfaraz_judgment_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
رینجرز کا الزام ہے کہ انہوں نے رکنے کا اشارہ کیا اور گاڑی نہ روکنے پر فائرنگ کی گئی، اس واقعے میں ایک رینجرز اہلکار گرفتار ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کراچی ائرپورٹ کے قریب ملیر چھاؤنی کے علاقے میں ڈیڑھ سو مکانات پر مشتمل رونجھو گاؤں کے لوگ پھول اگاتے اور بیچتے ہیں، ان کے آباؤ اجداد بلوچستان کے علاقے لسبیلہ سے یہاں آئے تھے۔

گاؤں کی خواتین کے درمیان غلام حیدر کی دلہن نظر آئیں ، کچھ روز پہلے وہ مایوں کی رسم میں تھیں اور اب چہرے پر کپڑا باندھ کر عدت کے دن گذار رہی ہیں۔ وہ خاموش رہتی ہیں اگر ان کی آواز آتی ہے تو بھی صرف سسکیاں سنائی دیتی ہیں۔ بیٹی کی حالت دیکھ کر والدہ عارضے دل لیکر ہپستال پہنچ گئی ہیں۔
غلام حیدر کے لواحقین کا کہنا ہے کہ رینجرز حکام نے ان سے بار بار رابطہ کیا ہے اور معاوضے کی پیشکش بھی کی لیکن وہ اپنے بیٹے کا خون نہیں فروخت کر سکتے۔
دو سال قبل سرفراز شاہ نامی نوجوان رینجرز اہلکاروں کی فائرنگ میں ہلاک ہوگیا تھا، جس کی ویڈیو منظر پر عام آنے کے بعد رینجرز کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ملزمان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سزا سنائی لیکن بعد میں سرفراز شاہ کے ورثاء نے انہیں معاف کر دیا، انہوں نے یہ قدم کسی دباؤ میں آ کر کیا یا دیت کی ادائیگی کے تحت کیا، لواحقین اب بات کرنے سے کتراتے ہیں۔
رواں ہفتے منگل کی شام رینجرز کی فائرنگ میں ہلاک ہونے والے ٹیکسی ڈرائیور مراد عباس کی بیوہ دعا اہلکاروں کو معاف کرنے کو تیار نہیں، وہ اپنے بچوں کے لیے انصاف کی طلبگار ہے۔
دعا کا کہنا ہے کہ مراد اپنے بیٹے زوہیب کے لیے دوا لینے گئے تھے، واپسی پر وہ فروٹ خریدنے کے لیے رک گئے، وہاں سے گھر آ رہے تھے کہ رینجرز نے انہیں روکنے کی کوشش کی اور فائرنگ کردی۔
مراد گلستان جوہر کی بستی چشتی نگر میں رہتے تھے، اس واقعے کے وقت معصوم زوہیب ان کے ساتھ تھا جو ابھی تک خوفزدہ ہے۔
پاکستان انسانی حقوق کمیشن کا کہنا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ میں نو افراد قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کا نشانہ بن چکے ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ میں بھی کئی ایسے مقدمات زیر سماعت ہیں، جن میں درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ ان کے رشتے داروں کو بلاجواز گرفتار کیا گیا۔
رینجرز کے بعض اہلکاروں کی جانب سے لوگوں کے ذاتی معاملات میں ملوث ہونے کی شکایت بھی سامنے آ رہی ہیں۔
شاکر عمر ڈیری فارمر ہیں اور ان کے مطابق انہیں ایک شخص سے لین دین کے معاملے پر رینجرز نے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا۔
’مجھے اپنے ہیڈکواٹر لے گئے جہاں ننگا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا اور تذلیل کی، انہوں نے کہا کہ کسی کرنل کے خلاف مقدمہ کرنے اور آگ سے کھیلنے کا نتیجہ دیکھ لیا۔ اب تمہیں نہیں چھوڑیں گے‘۔
شاکر عمر کے مطابق انہوں نے انہیں بتایا کہ وہ جی ایچ کیو اور عدالتوں کو یہ درخواست بھیج کر آئے ہیں کہ اگر کچھ نقصان پہنچا تو ذمہ دار رینجرز ہوگی، جس کے بعد انہوں نے چھوڑ دیا گیا۔
بعد میں ہائی کورٹ کے حکم پر رینجرز کے کرنل سمیت تین اہلکاروں پر انہیں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے کا مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
کراچی میں بدامنی کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے انیس سو نوے کی دہائی سے رینجرز موجود ہے، لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ حالات سنگین ہوتے گئے اور رینجرز کا کردار بھی بڑھ گیا، ان خدمات کا معاوضہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر ادا کرتی ہیں۔
سندھ کے محکمہ داخلہ کے مشیر شرف الدین میمن نے تسلیم کیا کہ رینجرز کی فائرنگ میں عام شہریوں کی ہلاکت ہوتی ہے، لیکن ان کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہے جتنی میڈیا میں بتائی جاتی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ رینجرز نے کئی اہم ملزمان کو گرفتار کرکے اسلحے بھی برآمد کیا۔
شرف الدین میمن نے اتفاق کیا کہ پولیس کو بااختیار اور جدید بنانے کی ضرورت ہے۔
کراچی میں بارہ مئی، بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد ہنگامہ آرائی، عاشورہ بم دھماکے اور گزشتہ سات سالوں سے جاری سیاسی، نسلی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہلاکتوں کی روک تھام میں بظاہر رینجرز کوئی متحرک کردار ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی، جبکہ پانی کی فروخت اور دوسرے کمرشل معاملات میں اس کے ملوث ہونے کی شکایات سامنے آنے لگی ہیں۔
گزشتہ حکومت میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے بعد رینجرز کو چھاپوں، گرفتاریوں اور تفتیش کے اختیارات دے دیے گئے ہیں۔ اس سرحدی فورس کو پولیس کے اختیارات مل گئے لیکن شہری علاقوں میں کام کرنے کی موثر تربیت فراہم نہیں کی گئی۔

عام شہری سے لیکر سیاسی جماعتوں تک رینجرز پر بے اعتمادی میں اضافہ ہو رہا ہے، سندھ کی اہم سیاسی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ بھی رینجرز کے کردار پر اپنی تشویش اور تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں، گزشتہ ماہ دونوں جماعتوں نے کارکنوں کی گرفتاری اور ماورائے عدالت قتل کے الزمات عائد کیے۔
سپریم کورٹ کراچی بدامنی از خود نوٹس کیس اور اس کے فیصلوں پر عملدرآمد کی سماعت کے موقع پر بھی عدالت رینجرز کے کردار پر انگلیاں اٹھا چکی ہیں۔ اس سے پہلے سندھ ہائی کورٹ بھی اپنے ریمارکس میں کہہ چکی ہے کہ رینجرز کے بجائے پولیس کو متحرک اور مضبوط کیا جائے۔







