سپاہ صحابہ کا سیاسی چہرہ بہتر کرنے کوشش

- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
عوامی مقبولیت کے حصول اور قومی دھارے میں شمولیت کے اہداف کے ساتھ پاکستان میں فرقہ واریت کی بنیاد سمجھی جانے والی تنظیم، سپاہ صحابہ کی قیادت نے اپنی جماعت پر لگنے والے تشدد کے ’لیبل ‘سے چھٹکارا پانے کے لیے بعض بنیادی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سپاہ صحابہ کی قیادت نے پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد کے سب سے بڑے ملزم ملک اسحٰق سے اعلان لا تعلقی کا فیصلہ کیا ہے۔
اس کے علاوہ پارٹی قیادت نے اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہر فورم پر ملک اسحٰق کی قائم کردہ فرقہ وارانہ تنظیم لشکر جھنگوی سے لا تعلقی کا پرچار کرنے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔
حالیہ انتخابات میں شکست کے بعد اہل سنت والجماعت کے جھنڈے تلے کام کرنے والی سپاہ صحابہ پاکستان کی قیادت نے اس شکست کی ذمہ داری گزشہ کچھ عرصے میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کو قرار دیا۔
پاکستانیوں کی بڑی تعداد فرقہ وارانہ تشدد کی ذمہ دار بلواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اسی جماعت کو سمجھتی ہے۔
اہل سنت والجماعت، سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی، ان تمام جماعتوں کو ایک ہی سکے کے مختلف رخ سمجھا جاتا ہے۔
لیکن حالیہ انتخابات میں شکست کے بعد اب یہ جماعت اپنے ’سیاسی چہرے‘ کو بہتر کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
ایک اہم ذریعے نے جو ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کی تحقیق میں شامل رہے ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ ’اس نئے لبادے میں، جو جماعت اہل سنت اوڑھنا چاہ رہی ہے، ملک اسحٰق کسی طور پر فٹ نہیں آتے۔ ایسے میں امکان یہی ہے کہ انہیں بہت جلد پارٹی تنظیم سے الگ کر دیا جائے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک اسحٰق کے بارے میں باضابطہ اعلان ان کی جیل سے رہائی کے بعد سامنے آئے گا۔ ملک اسحٰق ان دنوں نظر بند ہیں اور ان کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
مولانا محمد احمد لدھیانوی کی زیر سربراہی اہل سنت و الجماعت کی تنظیم ہو بہو سپاہ صحابہ پاکستان کی نقل ہے۔ جھنگ میں جامعہ مسجد حق نواز سمیت اس کے دفاتر بھی انہی مقامات پر قائم ہیں جہاں بارہ برس قبل پابندی کا شکار ہونے سے قبل سپاہ صحابہ کے دفاتر ہوا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ اہل سنت کی قیادت اب بھی اپنی تقاریر اور کارکنوں کے ساتھ روابط کے لیے سپاہ صحابہ کا نام کثرت سے استعمال کرتی ہے۔
لیکن اب قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ لشکر جھنگوی کا نام نہ صرف استعمال نہیں کیا جائے گا بلکہ اس تنظیم کی کھلے عام مذمت کی جائے گی۔
اہل سنت کے سربراہ محمد احمد لدھیانوی نے تو اس موضوع پر گفتگو سے انکار کیا تاہم ان کی جماعت کے ترجمان عبید اللہ عثمانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی قیادت یا کارکنوں میں لشکر جھنگوی کے بارے میں کوئی نرم گوشہ نہیں پایا جاتا۔
’بعض شدت پسند ہمارے مرحوم قائد حق نواز جھنگوی کا نام اپنے مذموم مقاصد کے لیے ایک عرصے سے استعمال کر رہے ہیں۔ ہم نے خود کئی بار حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ لشکر جھنگوی نامی تنظیم کے خلاف کارروائی کی جائے۔‘
عبید عثمانی کا کہنا تھا کہ حکومت، اور اس کی تقلید میں پاکستانی میڈیا، بغیر کسی ثبوت کے فرقہ وارانہ تشدد کے سلسلے میں لشکر جھنگوی کا نام لینا شروع کر دیتے ہیں۔
”میری میڈیا اور حکومت سے درخواست ہے کہ وہ دہشتگردی کے ان واقعات کے لیے جھنگوی کے بجائے کوئی اور نام ڈھونڈ لیں۔ اہل سنت والجماعت اپنے بانی قائد علامہ حق نواز جھنگوی کے نام کو کسی صورت کسی عسکری اور دہشت گرد تنظیم کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گی۔‘
لشکر جھنگوی کے بانی اور فرقہ وارانہ قتل کے درجنوں مقدمات میں ملوث ملک اسحٰق سے اعلانِ لا تعلقی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر اہل سنت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ملک اسحٰق ان کی جماعت کے اہم رہنما ہیں اور ان کے مستقبل کے کردار کے بارے میں گفتگو ان کی جیل سے رہائی کے بعد ہی ممکن ہو گی۔
پارٹی ترجمان کا کہنا تھا کہ گیارہ مئی کے انتخابات کے بعد پارٹی شوریٰ کے اجلاس میں انتخابی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تھا اور بعض اہم فیصلے بھی کیے گئے تھے۔
پاکستان میں شدت پسند تنظیموں پر تحقیق کرنے والے عامر رانا کا کہنا ہے کہ لشکر جھنگوی اور اہل سنت والجماعت میں کوئی تنظیمی تعلق باقی نہیں رہ گیا ہے۔
’لیکن لشکر کے پاس جو افرادی قوت ہے وہ سپاہ صحابہ یا جماعت اہل سنت ہی سے حاصل شدہ ہے۔ اس لیے کسی نہ کسی سطح پر اب بھی لشکر جھنگوی اور اہل سنت کا حلقۂ نیابت ایک ہی ہے۔‘
عامر رانا کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ اہل سنت والجماعت کی قیادت لاکھ کوشش کر لے، لشکر جھنگوی سے جان چھڑوانا اس کے لیے ممکن نہیں ہے۔







