بھتہ خوری، پولیس اور تاجروں میں عدم تعاون

سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ نے گزشتہ پانچ ماہ میں بھتے کی دو سو پچیس شکایت وصول کیں
،تصویر کا کیپشنسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ نے گزشتہ پانچ ماہ میں بھتے کی دو سو پچیس شکایت وصول کیں
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی میں پولیس کا کہنا ہے کہ زیادہ تر صنعت کار اور تاجر بھتے کی وصولی کے خلاف مقدمہ درج نہیں کراتے اور نہ ہی اس کی پیروی کرتے ہیں، جس وجہ سے ملزمان رہا ہو جاتے ہیں۔

سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ بھتے کی روک تھام کے لیے کام کرتا ہے، اس سیل نے گزشتہ پانچ ماہ میں بھتے کی دو سو پچیس شکایت وصول کیں۔

یونٹ کے سربراہ ایس ایس پی فاروق اعوان کا کہنا ہے کہ اکثر تاجر ایف آئی آر درج نہیں کراتے۔ ان کی درج شدہ شکایات کی حیثیت ایف آئی آر کے برابر ہوتی ہے۔

<link type="page"><caption> ’کراچی میں ہر پروفیشنل بھتہ دے رہا ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/10/121024_khi_case_sc_zz.shtml" platform="highweb"/></link>

’بعض اوقات وہ لوگ بھی پکڑے جاتے ہیں جو شکایت کرنے والے کے قریب ہوتے ہیں یعنی اس کا کوئی ملازم یا پڑوسی، اس صورتحال کے بعد شکایت کرنے والا کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کو معاف کر دیا جائے۔ اس طرح پولیس کی یہ مشق رائیگاں ہوجاتی ہے۔‘

سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے سوا دو سو میں سے ستر شکایت حل کر لی ہیں۔

ایس ایس پی فاروق اعوان کا کہنا ہے کہ اگر بھتہ خور کا تعلق کسی منظم گروہ سے ہوتا ہے تو شکایت کرنے والا اس کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

’یہ قانونی تقاضا ہے کہ شکایت کرنے والا موجود ہو، جو یہ کہے کہ اس کو فلاں فون سے دھمکایا گیا اور رقم طلب کی گئی کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ کسی بھتہ خور کو پولیس پکڑ کر سرکار کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کی جائے۔‘

سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کا موقف ہے کہ جب تک متاثر فریق سامنے نہیں آئےگا مقدمے نہیں ہوگیں جس وجہ سے پیروی بھی نہیں ہوگی نتیجے میں ملزم رہا ہو جائیں گے۔

صنعت کاروں اور تاجروں کی نمائندہ جماعت کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر ہارون اگر ملزمان کی رہائی کا ذمے دار پولیس کو قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پولیس تعاون اور درست پیروی نہیں کرتی۔ بقول ان کے جو تاجر بھتہ خوری کی شکایت کرتا ہے تو اس کو دوسرے تاجر کی نسبت زیادہ دھمکایا جاتا ہے، اسی لیے قانون میں ایسی گنجائش ہونی چاہیے کہ تاجر پر کوئی آنچ نہ آئے۔

کراچی میں بھتہ کی شکایت سیاسی جماعتوں اور عام دکاندار سے لےکر صنعت کار تک سب ہی کرتے ہیں، لیکن فرق صرف رقم کا ہوتا ہے۔

پولیس ملزمان کو گرفتار کرتی ہے مگر تاجر اس کو اور سنگین صورتحال سے تعبیر کرتے ہیں۔ کراچی چیمبر کے صدر ہارون اگر کے مطابق ملزم گرفتار ہوگیا تو یعنی اس سے دشمنی ہوگئی اور وہ جب رہا ہوکر آئےگا تو نہیں چھوڑے گا ۔

کراچی میں تاجروں اور پولیس کے درمیاں پل کا کردار ادا کرنے والے ادارے سٹیزن پولیس لیاژان کمیٹی کے سربراہ احمد چنائے کا کہنا ہے کہ جب تک تاجر گواہ کے طور پر سامنے نہیں آئیں گے، مجرم کو سزا نہیں مل سکتی۔

احمد چنائے کا کہنا ہے کہ تاجر برادری ایف آئی آر درج کرانے اور دوسرے معاملات سے پیچھے رہتی ہے، پولیس کو شہریوں کا اعتماد بحال کرنا چاہیے کہ وہ تمام الزامات کی قانونی چارہ جوئی کرے گی اور تاجر تعاون کریں کیونکہ جب اعتماد اور تعاون نہیں ہوتا تو تاجر برداری پیچھے ہٹتی رہے گی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان بھی کراچی بدامنی کیس میں شہر میں بھتہ خوری کی روک تھام کے لیے ہدایت جاری کرچکی ہے، لیکن پولیس ابھی تک اس میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

تاجروں کی شکایت پر کراچی چیمبر آف کامرس میں شکایتی مرکز بھی قائم کیا گیا، لیکن خوفزدہ تاجر قانونی چارہ جوئی سے کتراتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ پولیس کو ان شکایت کی پیروی کرنی چاہیے مگر قانونی طور پر پولیس نہیں کرسکتی۔