افواہوں کی منڈی یا حقیقی معیشت کی عکاس

- مصنف, سارہ حسن
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
گزشتہ پانچ سال میں پاکستان کی معیشت کو بجلی، بدامنی اور انتظامی مسائل جیسے کئی بحرانوں نے گھیر رکھا ہے لیکن کاروباری سرگرمیوں کی راہ میں حائل تمام قباحتوں کے باوجود پاکستانی معیشت میں ایک شعبے نے بہت ترقی کی اور وہ پاکستان کا بازارِ حصص یا سٹاک مارکیٹ ہے۔
پاکستان کی سب سے بڑی سٹاک مارکیٹ کراچی سٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس جو دو ہزار آٹھ میں نو ہزار پوائنٹس کی سطح پر تھا دو ہزار تیرہ میں بڑھ کر بائیس ہزار پوائنٹس تک پہنچ گیا ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کے بازارِ حصص میں گزشتہ چند برسوں میں تین سو گنا اضافہ ہوا ہے اور 2012 کے اختتام پر کراچی سٹاک ایکسچینج کا شمار دنیا کی بہترین منافع دینے والی مارکیٹ میں ہوا۔
پاکستان میں نومنتخب اسمبلی کی تشکیل کے بعد سے کراچی سٹاک مارکیٹ میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی اور تاریخ میں پہلی مرتبہ کے ایس سی ہنڈرڈ انڈیکس بائیس ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد بھی عبور کر گیا۔
کراچی سٹاک مارکیٹ کے ایک بڑے بروکر عقیل کریم ڈھیڈی کے مطابق ’نواز شریف پرو بزنس (کاروبار دوست) ہیں فی الحال اُن کے حوالے سے سرمایہ کاروں کی توقعات کافی زیادہ ہیں اس لیے مارکیٹ بھی اوپر جا رہی ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے سٹاک مارکیٹ کی بہتر کارکردگی کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ آئے دن نئے ریکارڈ بنا رہی ہے۔
علم معاشیات کی روح سے کسی بھی ملک کا بازارِ حصص اس کی معیشت کا ’بیرومیٹر‘ کہلاتا ہے یعنی معاشی ترقی بڑھے گی تو سٹاک مارکیٹ بھی اوپر جائے گی لیکن پاکستانی معیشت پر جہاں دیگر معاشی اُصول لاگو نہیں وہیں سٹاک مارکیٹ کو بھی پاکستانی معیشت کا بیرومیٹر نہیں کہا جا سکتا۔
ماہر معاشیات اور کراچی سٹاک ایکسچینج کے بورڈ میں ایک ڈائریکٹر شبر زیدی کہتے ہیں کہ سٹاک مارکیٹ حقیقت میں ملک کی معاشی صورتحال کی عکاس نہیں۔ ان کے مطابق ’پاکستان کی سٹاک مارکیٹ ملک کی معیشت کا محض پانچ سے دس فیصد ہے اس کا کوئی تعلق ملک کی معاشی حقائق سے نہیں ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شبر زیدی کے خیال میں پاکستانی سٹاک مارکیٹ افواہوں کی بنیاد اُتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے اور ایسی مارکیٹ جہاں کسی مستند یا جامع وجوہات کے بجائے افواہوں پر سودے ہوں وہاں کی جانے والی سرمایہ کاری پائیدار نہیں ہے۔
شبر زیدی کے مطابق پاکستان میں سرمایہ کاری کے محدود مواقع اور بینکوں کی کھاتوں پر کم شرحِ منافع ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری بڑھی۔ انھوں نے بتایا کہ سٹاک مارکیٹ میں لوگ قلیل مدت کے لیے سرمایہ کاری کرتے ہیں جلد منافع کماتے ہیں اور مارکیٹ سے نکل جاتے ہیں۔
تاہم عقیل کریم ڈھیڈی کے مطابق صورتحال ایسی نہیں بلکہ مارکیٹ میں رجسٹرڈ کمپنیوں کے سالانہ نتائج بہت اچھے آ رہے ہیں۔’کمپنیاں اپنے شیئر ہولڈرز کو منافع دے رہی ہیں اور بہتر کارپوریٹ نتائج سے مارکیٹ کی پرفارمنس بھی بہتر ہو رہی ہے۔‘
انھوں نے تسلیم کیا کہ بجلی کا بحران براہ راست صنعتوں پر اثرانداز ہوا ہے اور برامدآت میں کمی ہوئی ہے لیکن مواصلاتی کمپنیاں، مالیاتی اداروں جیسے بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کی کارگردگی کافی اچھی رہی ہے۔
افواہوں کی بنیاد پر پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں اُتار چڑھاؤ کے تاثر کو رد کرتے ہوئے عقیل کریم ڈھیڈی کا کہنا تھا کہ ’سرمایہ کار سوچ بوجھ رکھتے ہیں وہ کارکردگی کی بنیاد پر حصص خریدتے ہیں اور مناقع کماتے ہیں۔‘
دوسری جانب مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں اربوں روپے کی کرپشن ہوئی ہے۔ غیر قانونی طور پر ہاتھ آئی رقم ملکی معیشت میں آنے سے پہلے بیرون ملک منتقل ہوئی اور پھر اس کا بڑا حصہ پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں بیرون ملک سرمایہ کاری کی شکل میں واپس آ رہی ہے۔
سابق مشیر خزانہ ڈاکٹر اشفاق حسن خان کہتے ہیں کہ غیر قانونی ذرائع سے حاصل ہونی والی رقم ہنڈی اور حوالے کے ذریعے ملک سے باہر منتقل کی جاتی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ’ کرپشن کی رقم پہلے باہر جاتی ہے پھر غیر قانونی آمدن کو قانونی بنانے کے لیے ترسیلات زر کی مد میں اور سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی شکل میں اسے واپس لایا جاتا ہے، نہیں تو معیشت میں ایسا کیا ہے جو سرمایہ کاری بڑھے‘۔
اقوام متحدہ کے ادراہ برائے منشیات و جرائم کے اندازے کے مطابق پاکستان میں غیر قانونی ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن 34 ارب ڈالر سالانہ ہے جو ملکی معیشت کا تقریبا بیس فیصد ہے۔
ملک کے نومنتخب وزیراعظم نواز شریف نے اقتصادی بہتری کے سخت فیصلے کرنے کا عندیہ ہے۔ جس میں ملک سے کرپشن کا خاتمہ اور محصولات کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے اُمراء پر ٹیکس عائد کرنا شامل ہے۔
لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ خراب معاشی حالات میں بھی ریکارڈ ترقی کرنے والی پاکستانی سٹاک مارکیٹ سخت اقتصادی فیصلوں پر کیساردعمل ظاہر کرے گی۔







