ایم کیو ایم تنظیم سازی: اندرونی دباؤ یا سیاسی حالات

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

’ کارکن خدا کے حضور شکرانے کے نوافل ادا کریں جس نے متحدہ قومی موومنٹ کو بچا لیا۔‘ سماجی ویب سائٹ ٹوئٹر پر متحدہ قومی موومنٹ کے صفحے پر یہ پیغام موجود ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کو واقعی کوئی خطرہ تھا، اس کی نوعیت کیا تھی یعنی اندرونی خطرہ تھا یا بیرونی اس کا کوئی جواب ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ ہاں یہ حقیقت ہے کہ نوے کی دہائی میں بھی تنظیم میں ایک گروہ نے نظریاتی اختلافات کا دعویٰ کرکے علیحدگی اختیار کرلی تھی لیکن موجودہ خطرہ ایک معمہ ہے۔

سنہ 1984 سے قائم ایم کیو ایم گزشتہ ایک ہفتے سے تنظیمی تبدیلیوں کے مرحلے سے گذر رہی ہے، اس دوران تنظیم کے فیصلہ ساز ادارے رابطہ کمیٹی کو تحلیل کر دیا گیا۔

رابطہ کمیٹی 34 اراکین پر مشتمل ہے، جن میں سے 24 پاکستان سے اور 10 برطانیہ سے ہیں، اسی لیے یہ کمیٹی پاکستان اور لندن دو حصوں میں تقسیم ہیں۔

تنظیمی ڈھانچے کے مطابق رابطہ کمیٹی سیاسی پروگرام، پالیسی فیصلے، آئین سازی اور پارٹی منشور کے بارے میں فیصلہ کرتی ہے، اس کمیٹی کے سربراہ الطاف حسین ہیں جن کا فیصلہ حتمی مانا جاتا ہے۔ تمام پارلیمینٹرین، تنظیم کے شعبے اور ذمے داران رابطہ کمیٹی کے ماتحت ہیں۔

الطاف حسین نے نئی رابطہ کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا، 23 اراکین کے علاوہ چار ڈپٹی کنوینر مقرر کیے گئے ہیں، جن میں خالد مقبول اور ندیم نصرت کا شمار قیادت کے ہر حکم پر لبیک کہنے والے کارکنوں میں ہوتا ہے دونوں ایک بڑے عرصے تک بیرون ملک مقیم رہے ہیں۔

حالیہ تنظیمی تبدیلیوں کی ابتدا اس وقت ہوئی تھی جب ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے رابطہ کمیٹی سے شکوہ کیا تھا کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے جب انہیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا تو رابطہ کمیٹی نے ان کا دفاع نہیں کیا۔

انگریزی روزنامہ ’دی نیوز‘ کے ایڈیٹر عامر ضیا کا کہنا ہے کہ حالیہ انتخابات میں یہ نظر آیا ہے کہ ایم کیو ایم مخالف ووٹ میں اضافہ ہوا ہے اور اس میں ایم کیو ایم کے لیے قابل تشویش بات یہ تھی کہ لوئر مڈل کلاس، مڈل کلاس اور تعلیم یافتہ افراد نے جس طرح تحریک انصاف کو ووٹ دیا ہے وہ یقینا ایک کھلا چیلینج ہے۔

عامر ضیا کے مطابق اس صورت حال میں تنظیم کے اندر تنقید ہوئی ہوگی اور حالیہ تبدیلیاں اس کا نتیجہ ہوسکتی ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما واسع جلیل عامر ضیا کے موقف سے متفق نظر نہیں آتے ان کا کہنا ہے کہ حالیہ انتخابات میں متحدہ کی مقبولیت میں کوئی فرق نہیں پڑا۔

’انتہا پسندوں کے نشانے پر جو تین جماعتیں تھیں ان میں متحدہ قومی موومنٹ واحد جماعت ہے جس نے اپنا ووٹ بینک برقرار رکھا اور اس میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ تحریک انصاف جس طریقے سے ابھر کر آئی ہے، جو شہری جس جماعت کو ووٹ دینا چاہے یہ اس کا حق ہے کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔‘

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کراچی شہر میں سیاسی جماعتوں پر ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور قبضہ گیری کے الزامات عائد ہوئے، سپریم کورٹ میں بھی یہ معاملات زیر سماعت آئے لیکن سیاسی جماعتوں کی جانب سے تنظیمی سطح پر کوئی بڑی کارروائی نظر نہیں آئی۔

کراچی یونیورسٹی کے شعبے بین الاقوامی تعلقات کے استاد اور پاکستان میں لسانی سیاست کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والے پروفیسر فرحان حنیف کا کہنا ہے کہ کراچی کے حالات نے بھی ایم کیو ایم کے خلاف منفی تاثر قائم کیا۔

’شہر میں جو حالات رہے ہیں، جو قتل و غارت، قبضہ گیری اور بھتہ خوری ہے اس صورت حال میں یہ تاثر بڑھا ہے کہ ایم کیو ایم جو شہر کی اہم اور بڑ ی جماعت ہے وہ توقعات پر پورا نہیں اتر سکی ہے، اس کے علاوہ تنظیمی تبدیلی کی ایک وجہ یہ بھی نظر آتی ہے کہ قیادت کو یہ احساس ہوا ہے کہ کچھ ایسے عناصر ہیں جنہوں نے تنظیم کو نقصان پہنچایا ہے اس لیے تبدیلی کی ضرورت محسوس کی گئی۔‘

بعض تجزیہ نگاروں کا یہ کہنا ہے کہ جس طرح ملک کی دیگر اہم بڑی جماعتوں میں کرپشن پھیلی اس سے متحدہ قومی موومنٹ خود کو محفوظ نہیں رکھ سکی۔

’دی نیوز‘ کے ایڈیٹر عامر ضیا کے مطابق ایم کیو ایم کے اندر کرپشن کا عنصر بڑھا ہے جس کی نشاندھی خود الطاف حسین نے کی ہے، حالیہ تبدیلیوں کا ایک محرک یہ بھی ہوسکتا ہے۔

یاد رہے کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے واضح کیا تھا کہ زمینوں پر قبضے اور چندہ مانگنے والوں کی رکینت خارج کردی جائے گی اور کسی بھی کارکن یا ذمے دار کو ٹھیکیداری کی اجازت نہیں ہوگی۔

عامر ضیا کا کہنا ہے کہ ایک تو اندرونی دباؤ ہے جو انتخابات کے بعد نظر آیا ہے جس میں متحدہ کی مقبولیت کے گراف میں کچھ کمی ہوئی ہے دوسرا بدلتے ہوئے سیاسی حالات کا بھی دباؤ رہا جس کی وجہ سے یہ فیصلے سامنے آئے ہیں۔