قرآن کی مبینہ بے حرمتی ،چینی باشندہ حفاظتی تحویل میں

پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں حکام کے مطابق ایک چینی باشندے کو مبینہ طور پر قرآن کی بے حرمتی کرنے کے الزام کے بعد حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔
اس چینی باشندے کا نام لی پنگ بتايا گیا ہے اور وہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک ڈیم تعمیر کرنے والی چینی کنسورشیم میں کام کرتے ہیں۔
پولیس حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں حفاظتی اقدام کے تحت تحویل میں لیا گیا ہے کیونکہ خدشہ تھا کہ مشتعل ہجوم کہیں انھیں ہلاک نہ کر دے۔
کشمیر کے پولیس چیف نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے پولیس حکام، سیاست دانوں، مقامی علماء اور صحافیوں کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔
پولیس نے ابھی تک اس حوالے سے مقدمہ درج نہیں کیا اور اس کا کہنا ہے کہ وہ کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کرے گی۔
بی بی سی کے ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کسی غیر ملکی فرد پر قرآن کی بے حرمتی کے الزام کا یہ پہلا واقعہ ہے۔
مظفرآباد شہر میں جہاں یہ مبینہ واقعہ پیش آیا وہاں کے ایک اہل کار نے بتایا کہ یہ الزام لی اور ایک مقامی ڈاکٹر کے درمیان ایک تنازعے سے منسلک ہے۔
مظفرآباد کے انتظامی سربراہ انصر یعقوب کے مطابق گذشتہ ہفتے چینی باشندے لی نے ڈاکٹر ساجد کو مزدوروں کے کوارٹر کے ایک کمرے میں منتقل ہونے کے لیے کہا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انصر یعقوب کے مطابق جب ڈاکٹر ساجد نے اس بات سے انکار کیا تو لی نے مقامی افراد کی مدد سے ان کا سامان ان کی عدم موجودگی میں کمرے سے باہر پھنکوا دیا۔
اس کے بعد ڈاکٹر ساجد نے دوسرے ملازمین کو بتایا کہ ان کے سامان کے ساتھ قرآن مجید اور دوسری مذہبی کتابوں کو بھی ان کے کمرے سے باہر پھنکوایا گیا ہے۔
اس بات کی نہ تو چینی باشندے لی اور نہ ہی ڈاکٹر ساجد سے تصدیق کی جا سکی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقامی ملازمین اس بات سے ناراض ہو گئے اور بعد میں آس پاس کے گاؤں کے سینکڑوں افراد ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔
ایک عینی شاہد نے کہا کہ ہجوم نے احاطے میں پتھراؤ کیا اور عمارت کے کچھ حصے اور کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔
پاکستان میں سنہ 2011 میں توہین رسالت قانون کے خلاف بولنے والے دو سیاست دانوں کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔







