’خلافِ ضابطہ سی این جی لائسنس کی تحقیقات‘

سپریم کورٹ نے ایف آئی اے یعنی وفاقی تحقیقاتی ادارے کو سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں پابندی کے باوجود جاری کیے جانے والے پانچ سو سے زائد سی این جی سٹیشن کے لائسنسوں کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل سے کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں اوگرا یعنی آئل اینڈ ریگولیشن اتھارٹی سے ریکارڈ قبضے میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں۔
عدالت کا کہنا تھا کہ اُن افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے جنھوں نے سابق وزرائے اعظم کو حقائق بتائے بغیر سی این جی سٹیشنوں کے ان لائسنسوں کے اجرا میں کردار ادا کیا۔
جمعہ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کے دور میں پانچ سو سے زائد کمپرسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کے لائسنس کے اجرا سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔
اوگرا کی طرف سے ایسے گیس سٹیشنوں کی معلومات عدالت میں فراہم نہ کی جا سکیں جن کے لائسنس خلافِ ضابطہ جاری کیے گئے تھے۔
عدالت نے اوگرا کے اہلکاروں سے استفسار کیا کہ سنہ 2008 سے سی این جی لائسنسوں پر پابندی تھی تو پھر کس طرح پانچ سو سے زائد لائسنس جاری کیے گئے اور جاری کیے جانے والے ان لائسنسوں کی منظوری نگراں حکومت کے دور میں پانندی اُٹھانے کے بعد کروائی گئی۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں اس میں اوگرا اور وزارتِ پٹرولیم کے افسران کی ملی بھگت دکھائی دیتی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ملک میں لوٹ مار مچی ہوئی ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ عدالت کا مقصد کسی کو تنقید کا نشانہ بنانا یا اُن کے خلاف کارروائی کرنا نہیں بلکہ ملکی دولت کو واپس لانا ہے جو بےدریغ لوٹی جا رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سپریم کورٹ نے متعقلہ ریکارڈ پیش نہ کرنے پر اوگرا کے اہلکار معظم خان کی سرزنش کی اور کہا کہ عدالتی احکامات نہ ماننے پر اُن کے خلاف مناسب وقت پر کارروائی کی جائے گی۔ اس از خودنوٹس کی سماعت 15 اپریل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔







