
پارلیمانی کمیٹی کے چھ ممبران کی رائے یا دو تہائی اکثریت سے ملک کے لیے نگراں وزیرِاعظم چنا جائے گا
پاکستان کے نگراں وزیر اعظم کے چناؤ کے لیے تشکیل دی جانے والی پارلیمانی کمیٹی کے تیسرے اور آخری دن کے اجلاس میں وقفے کے دوران سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ ملک کے لیے نگراں وزیراعظم کا چناؤ پارلیمانی کمیٹی کرے۔
اسلام آباد میں جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں وقفے کے دوران پارلیمانی کمیٹی کے ممبر سید خورشید نے نگراں وزیرِ اعظم کی نامزدگی کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارا موقف ہے کہ پارلیمان کی بالا دستی قائم رہے اور آٹھوں ممبران پراعظم ہیں کہ پارلیمان نے جو کمیٹی بنائی ہے وہ یہ فیصلہ کرے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ’ انشااللہ ہم پوری کوشش کریں گے کہ پارلیمانی کمیٹی اس کام میں کامیاب ہوجائے۔‘
پاکستان مسلم نون سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے سابق رہنما چوہدری نثار علی خان نے جمعہ کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا گار پارلیمانی کمیٹی میں نگراں وزیر اعظم کے نام پر اتفاق نہیں ہو سکا تو یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کر لے گا اس میں کوئی پریشانی کی بات نہیں۔
اگر آج جمعہ کو پارلیمانی کمیٹی میں نگراں وزیراعظم کے نام پر اتفاق نہ ہو سکا تو پھر الیکشن کمیشن وزیراعظم اور حزبِ اختلاف کے رہنما کی طرف سے بھیجے گئے ناموں میں کسی ایک کو ملک کے نگراں وزیراعظم کے طور پر چنے گا۔
خیال رہے کہ بدھ اور جمعرات کو پارلیمانی کمیٹی کے ہونے والے اجلاسوں میں لمبی بحث کے باوجود نگراں وزیر اعظم کے عہدے کے لیے کسی شخصیت کا نام سامنے نہیں آیا تھا۔تاہم کمیٹی کے رکن خورشید شاہ نے جمعرات کو اجلاس کے بعد امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس معاملے کو کمیٹی میں ہی نمٹائیں گے۔
پارلیمانی کمیٹی نے تجویز کردہ چاروں ناموں پر گذشتہ اجلاس میں بحث کی تھی اور سوالات اٹھائے تھے جس پر آج مزید بات چیت ہوگی۔
اس کمیٹی میں مسلم لیگ نواز کی جانب سے سینیٹر پرویز رشید، خواجہ سعد رفیق، سردار مہتاب عباسی اور سردار یعقوب ناصر اور حکومت کی جانب سے پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ اور فاروق ایچ نائیک کے علاوہ اے این پی کے غلام احمد بلور اور مسلم لیگ ق کے چودھری شجاعت حسین شامل ہیں۔
یہ کمیٹی جن چار ناموں پر غور کر رہی ہے ان میں جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد، رسول بخش پلیجو، جسٹس (ر) میر ہزار خان کھوسو اور ڈاکٹر عشرت حسین شامل ہیں۔
"بڑی بد قسمتی کی بات ہوگی کہ اگرسیاسی لوگ اپنے فیصلے غیر سیاسی لوگوں سے کرائیں۔مجھے پوری امید ہی کہ کل ہم اس کا حل نکال لیں گے۔ سیاسی لوگ سیاسی فیصلے کریں اور دوسروں کے بل بوتے پر نہ رہے"
چوہدری شجاعت حسین
خورشید نے جمعرات کو کہا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں نگراں وزیر اعظم کے لیے جو بنیادی اہلیت رکھی گئی ہے جس شخصیت کو نامزد کریں گے وہ اس پر پورا اتریں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے سردار مہتاب عباسی نے بدھ کو اس پارلیمانی کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعد نگراں وزیراعظم کے لیے بنیادی اہلیت طے ہونے کے بارے میں کہا تھا کہ ’ہم ایسی شخصیت کو چنیں گے جو غیر جانبدار ہوں، ایماندار ہوں، انتظامی امور میں تجربہ کار ہوں اور کسی سیاسی جماعت سے وابستگی نہ ہو اور ملک میں اچھی شہرت رکھتے ہوں۔‘
پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر خورشید نے کہا تھا کہ ’اگر کوئی سیاستدان یہ بات کرتے ہیں کہ نگراں وزیر اعظم کے نام پر پارلیمانی کمیٹی کے اندر اتفاق نہیں ہوگا اور یہ معاملہ الیکشن کمیشن میں جائے گا تو ہم ان خیالات سے اتفاق نہیں کرتے۔‘
پاکستان مسلم لیگ (ق) کےسربراہ چوہدری شجاعت حسین نے جمعرات کو کہا تھا کہ ’بڑی بد قسمتی کی بات ہوگی کہ اگرسیاسی لوگ اپنے فیصلے غیر سیاسی لوگوں سے کرائیں۔ مجھے پوری امید ہی کہ کل ہم اس کا حل نکال لیں گے۔‘
پاکستان مسلم لیگ نواز کے سردار یعقوب ناصر نے کہا کہ مسلم لیگ نواز لچک کا مظاہرہ کر رہی ہے اور یہ ملک و قوم کا معاملہ ہے اور اس پر کل دو نشستیں ہونگی جس میں مزید بات چیت ہوگی اور اگر یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس گیا تو الیکش کمیشن بھی ہم سیاستدانوں نے بنایا ہے اور وہ بھی ہمارا ہی ہے۔
خیال رہے کہ پارلیمانی کمیٹی کے چھ ممبران کی رائے یا دو تہائی اکثریت سے ملک کے لیے نگراں وزیرِاعظم چنا جائے گا۔
یاد رہے کہ آئین کے تحت پارلیمانی کمیٹی کے پاس کسی ایک نام پر اتفاق کے لیے تین دن کا وقت ہوتا ہے اور ایسا نہ ہونے پر الیکشن کمیشن ہی یہ فیصلہ کرنے کا مجاز ہوتا ہے کہ نگراں وزیر اعظم کون بنے گا۔






























