
ہماری پارٹی کا کردار جمہوریت کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا: شہباز شریف
میاں شہباز شریف نے نگران وزیرِ اعظم کے مسئلے جاری تعطل کے بارے میں کہا ہے کہ اس سلسلے میں ہمارا موقف قطعاً بے لچک نہیں ہے۔ بلکہ ہمارا موقف قومی مفادات کو تقویت پہنچانا ہے۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ اور مسلم لیگ ن کے سربراہ نے بی بی سی بات کرتے ہوئے سوال کیا کہ اس میں کیا غلط بات ہے کہ ہم یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ باکردار قابل امانت دار کیرٹیکر سیٹ اپ میں آنے چاہیئیں؟
واضح رہے کہ مسلم لیگ اور حکمران جماعت پیپلز پارٹی میں نگران وزیرِ اعظم کے نام پر تاحال اتفاق نہیں ہو سکا۔ فریقین نے کئی نام پیش کیے ہیں لیکن دونوں جماعتیں کسی ایک نام پر متفق نہیں ہو سکیں۔
اگر منگل تک کسی کے نام پر اتفاق نہ ہو سکا تو پھر یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا۔ اگر تین دن کے اندر اندر وہاں بھی اتفاقِ رائے حاصل نہ ہوا تو پھر الیکشن کمیشن نگران وزیرِاعظم کا انتخاب کرے گا۔
شہباز شریف نے کہا، ’پارلیمانی جمہوریت کے پاس تاریخی موقع ہے۔ ہماری پارٹی کا کردار جمہوریت کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا، ہم کیوں سخت موقف اپنائیں گے؟ کیا ہم آئی ایم ایف زدہ لوگوں کو لے آئیں۔ کیا پاکستان کے اندر باصلاحیت لوگ موجود نہیں؟ اس ملک میں بے شمار لوگ موجود ہیں۔‘
میاں شہباز شریف نے کہا، ’اگر پیپلز پارٹی کے پاس بہتر لوگ موجود ہیں تو ہم ان پر غور کریں گے۔‘
انھوں نے زور دے کر کہا کہ ’ہمارا موقف ہے کہ جلد سے جلد الیکشن کرائے جائیں۔ ہم پاکستان کی خیر اور خوشحالی اور ترقی کی بات کرتے ہیں۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’اہلسنت والجماعت کے ساتھ ہم نہیں بلکہ رحمٰن ملک مذاکرات کر رہے ہیں، میں اس کے گواہ پیش کر سکتا ہوں۔‘
گذشتہ ہفتے لاہور میں توہینِ مذہب کے الزام کے بعد ایک مسیحی بستی پر ہونے والے حملے کے بارے میں انھوں نے بتایا، ’جوزف کالونی میں ہم نے پلک جھپکتے میں ان کے گھر اور چرچ تعمیر کر دیے ہیں، بلکہ انھیں پہلے سے زیادہ خوبصورت بنا دیا ہے۔‘






























