
ارشد پپو لیاری کی گینگ وار کے مرکزی کرداروں میں سے ایک تھے
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے لیاری میں مخالف گروہوں کے مابین فائرنگ میں لیاری گینگ وار کے اہم کردار ارشد پپو کی دو ساتھیوں سمیت ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
کراچی جنوبی کے ڈی آئی جی شاہد حیات نے بی بی سی اردو کے ارمان صابر کو بتایا ہے کہ ’ہمیں یہ یقین ہوچکا ہے کہ ارشد پپو ہلاک ہوگیا ہے حالانکہ ابھی ہمیں اس کی لاش نہیں ملی ہے لیکن ہماری اطلاعات ایسی ہیں جن پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ بہرحال اس کی لاش ملنے کے بعد ہم اس کی شناخت معلوم کرنے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ بھی کرائیں گے۔’
ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی ایک مفروضہ ہے کہ ارشد عرف پپو کو اغواء کر کے قتل کیا گیا ہو۔
ارشد پپو کی ہلاکت کی اطلاعات سنیچر کی رات گئے آنا شروع ہوئی تھیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ارشد پپو اپنے ساتھیوں سمیت لیاری میں بروہی چوک پر مسلح گروہ کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے لیکن مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ ارشد پپو کے لیے نوگو ایریا تھا جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ وہ یہاں تک آئے کیسے، یا پھر انہیں یہاں تک کیسے لایا گیا۔
ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ارشد عرف پپو، ان کے بھائی یاسر عرفات اور ان کے ایک ساتھی شیرا پٹھان کو اغواء کیا گیا جس کے بعد انہیں تشدد کر کے قتل کیا گیا۔
پولیس کو ان میں سے شیرا پٹھان کی لاش مل گئی ہے جو قابلِ شناخت ہے تاہم ارشد پپو اور ان کے بھائی یاسر عرفات کی لاش ہنوز نہیں ملی ہے۔
ارشد پپو کے خلاف اسّی سے زیادہ مقدمات قائم تھے اور وہ گزشتہ سال دسمبر میں ضمانت پر جیل سے رہا ہوئے تھے۔
اطلاعات ہیں کہ وہ پاک کالونی کے علاقے میں رہائش پذیر تھے جہاں سے وہ دوبارہ اپنے گروہ کو فعال کررہے تھے۔
ارشد پپو اپنے گروہ کے سربراہ تھے جبکہ ان کا مخالف گروہ سردار عبدالرحمان بلوچ عرف رحمان ڈکیت کا تھا جن کی سربراہی میں لیاری امن کمیٹی کا قیام عمل میں آیا تھا۔ رحمان ڈکیت کو دس اگست سنہ دو ہزار نو کو ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کردیا گیا تھا۔
ارشد پپو کے والد حاجی لعل محمد عرف حاجی لالو ایک طویل عرصے تک جیل کاٹنے کے بعد گزشتہ برس کے اوائل میں رہا کیا گیا تھا تاہم گزشتہ برس ہی ان کی طبعی موت ہوگئی تھی۔






























