
افغان حکومت نے پاکستان کو بتایا تھا کہ مولوی فقیر ان کی حراست میں ہیں
افغانستان نے مولوی فقیر محمد کی پاکستان حوالگی کے لیے پاکستان حکومت کے سامنے کچھ شرائط رکھی ہیں جن میں ملا برادرز کے علاوہ دیگر اہم طالبان کمانڈرز کی فوری طور پر رہائی اور اُنہیں افغان حکومت کے حوالے کرنا بھی شامل ہے۔ یہ افراد ان دنوں پاکستان کی تحویل میں ہیں۔ پاکستان اس سے پہلے امن جرگے کی اپیل پر سنہ دو ہزار بارہ اور تیرہ کے دوران چھبیس طالبان رہنماؤں کو رہا کر چکا ہے۔
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ افغان حکومت کی طرف سے یہ شرائط مولوی فقیر محمد کی حوالگی کے سلسلے میں انٹرپول کو لکھے گئے خط کے بعد سامنے آئی ہیں۔ وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ مولوی فقیر محمد کی حوالگی سے متعلق شرائط رکھی جا رہی ہیں۔
وزارت داخلہ کی طرف سے چند روز قبل انٹرپول کو لکھے گئے خط میں متعقلہ حکام سے مولوی فقیر محمد کی حوالگی کے بارے میں کہا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے کو وزارت خارجہ اور عسکری حکام کے سامنے بھی اُٹھایا جایا گا تاکہ اس معاملے میں کوئی حکمت عملی وضح کی جا سکے۔
یاد رہے کہ افغان حکومت کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ اُنہوں نے مولوی فقیر محمد کو حراست میں لیا ہے۔ پاکستانی حکومت کے مطابق مولوی فقیر محمد شدت پسندی کے متعدد مقدمات میں قانون نافد کرنے والے اداروں کو مطلوب ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان معظم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ افغان حکومت کی طرف سے جو شرائط رکھی گئی ہیں وہ اُن کے علم میں نہیں ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ میں اس ضمن میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بھی اُنہیں معلومات نہیں ہیں۔
وزیر داخلہ رحمان ملک کی طرف سے بھی یہ بیان سامنے آیا ہے کہ اگر افغان حکومت پاکستان کے ساتھ مخلص ہے تو وہ مولوی فقیر محمد کو پاکستان کے حوالے کرے کیونکہ مولوی فقیر محمد متعدد پاکستانیوں کے قتل میں ملوث ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے پاکستان افغان حکومت سے مولوی فضل اللہ کی حوالگی سے متعلق بھی درخواست کرچکا ہے لیکن اس پر افغان حکومت کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
طالبان رہنماؤں اور کمانڈروں کی تعداد سے متعلق ذرائع کا کہنا تھا کہ متعدد افراد وفاقی حکومت کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کی پولیٹیکل انتظامیہ کی تحویل میں ہیں جنہیں ان علاقوں میں فوجی آپریشن کے دوران مختلف اوقات میں حراست میں لیا گیا تھا تاہم ان کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جا سکتا۔






























