
مولوی فقیر کو پیر کے روز مہمند درہ ضلع سے اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ گرفتار کیاگیا
پاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں حراست میں لیے جانے والے شدت پسند طالبان کمانڈر مولوی فقیر کو جلد از جلد پاکستان کے حوالے کیا جانا چاہیے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان معظم خان نے اسلام آباد میں جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ افغان وزیر خارجہ زلمے رسول نے پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کو مولوی فقیر کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی۔
ترجمان کے مطابق بدھ کی رات افغان وزیرِ خارجہ نے اپنی پاکستانی ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو میں اس گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ انہیں جلد از جلد پاکستان کے حوالے کر دیا جائے گا کیونکہ ان کے ہاتھوں پر بہت سے معصوم پاکستانیوں کا خون ہے۔‘
ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مولوی فقیر کی گرفتاری پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعاون اور اعتماد کا مظہر ہے۔
اس سوال پر کہ کیا پاکستان صرف مولوی فقیر یا دیگر افراد کی حوالگی کا مطالبہ کر رہا ہے، ترجمان نے کہا کہ ہم پرامید ہیں کہ وہ تمام افراد جو پاکستان مخالف کارروائیوں میں مصروف ہیں، گرفتار ہوں گے اور پاکستان کے حوالے کیے جائیں گے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل افغان حکام سے مولوی فضل اللہ کو بھی پاکستان کے حوالے کرنے کے بارے میں درخواست کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مولوی فضل اللہ افغانستان کے صوبے کنہٹر میں موجود ہیں۔
اس سے پہلے افغانستان کی حکومت نے تصدیق کی تھی کہ باجوڑ سے تعلق رکھنے والے تحریک طالبان پاکستان کے اہم کمانڈر مولوی فقیر محمد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
افغانستان کے صوبے ننگرہار کےگورنر کے ترجمان احمدزئی عبدل زئی نے بتایا تھا کہ مولوی فقیر کو پیر کے روز مہمند درہ ضلع سے اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ گرفتار کیاگیا ہے۔
ننگر ہار کے گورنر کے ترجمان نے کہا کہ مولوی فقیر کی گرفتاری انٹیلجنس رپوٹوں کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے۔
پاکستان کی حکومت کا موقف رہا ہے کہ مولوی فقیر حیسن اور ملا فضل اللہ افغانستان میں قیام پذیر ہیں اور وہاں سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔






























