
دھماکے سے ستر کے قریب رہائشی فلیٹ تباہ ہو گئے تھے
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اتوار کو ہونے والے بم دھماکے کے متاثرین کی جانب سے امداد فراہم نہ کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں مناسب اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
دریں اثناء سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کراچی بم دھماکے پر از خو نوٹس کی سماعت کے لیے اپنی سربراہی میں تین رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے جو بدھ سے کراچی میں سماعت شروع کرے گا۔
کلِک کراچی میں سوگ اور ہڑتال: تصاویر میں
کراچی کے علاقے عباس ٹاؤن میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں اڑتالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ستر کے قریب رہائشی فلیٹ تباہ ہو گئے تھے۔
تباہ ہونے والے فلیٹوں میں رہائش پذیر افراد کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ان کی رہائش انتظامات نہیں کیے جا رہے ہیں اور وہ بے سر و سامانی کی حالت میں رہ رہے ہیں۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون وقار مہدی نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار ارمان صابر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عباس ٹاؤن میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ستر ایسے فلیٹوں تھے جو اب رہائش کے قابل نہیں رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان فلیٹوں میں رہائش پذیر خاندانوں کی رہائش کے لیے ایک سرکاری سکول میں انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ دیگر مکانات کرایے پر بھی حاصل کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ متاثرین اس وقت تک ان عارضی انتظامات میں رہائش رکھ سکیں گے جب کہ متاثرہ فلیٹوں کی مرمت کی نہیں ہو جاتی ہے۔

متاثرین نے اپنے قیمتی سامان کی چوری کی شکایت بھی کی ہے
انہوں نے کہا کہ ان فلیٹوں کی مرمت حکومت کی ذمہ داری ہے اور وزیر اعلیٰ سندھ نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی نگرانی میں ان فلیٹوں کو تعمیر کرائیں۔ وزیراعلیٰ کے معاون کے بقول فلیٹوں کی مرمت کے لیے فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب عباس ٹاؤن دھماکے کے متاثرین اب بھی ملبے سے اپنا سامان تلاش کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ متاثرین نے یہ بھی شکایت کی ہے کہ ان کے فلیٹوں میں سے قیمتی سامان چوری ہو گیا ہے۔
دھماکے کے خلاف پیر کو شہر میں حکومتی اور عوامی سطح پرسوگ منایا گیا تھا جس کے بعد اب شہر میں حالاتِ زندگی معول پر آ رہے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق دھماکے کو دو دن گزر جانے کے باوجود شہر میں اب بھی سوگ کی کیفیت ہے اور لوگوں کی زبانوں پر اسی واقعے کا تذکرہ ہے۔
کراچی پولیس کے مختلف شعبوں نے دھماکے کے بعد مشترکہ تفتیش شروع کر دی ہے اور دھماکے کے مقام سے شواہد اور ثبوت جمع کیے جا رہے ہیں۔
ایس ایس پی سی آئی ڈی پولیس فیاض خان کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں دو سو کلوگرام سے زیادہ دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا جس میں بال بیئرنگ بھی تھے اور اسی وجہ سے ہلاکتیں بھی زیادہ ہوئیں۔
کراچی میں ہونے والے دہشت گردی کے اس واقعہ میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا جو ایک نیا رجحان ہے۔






























