’سب ختم ہوگیا، پورا گھر برباد ہوگیا‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 5 مارچ 2013 ,‭ 19:42 GMT 00:42 PST

’سب ختم ہوگیا، پورا گھر برباد ہوگیا۔ سب ہپستالوں میں پڑے ہیں کوئی پرسان نہیں۔‘

یہ صرف خیر النساء کی فریاد نہیں بلکہ اقرا سٹی کے اکثر لوگوں کے یہی جذبات ہیں جو اب بے گھر ہوچکے ہیں۔ انہیں گزشتہ روز فرقہ وارانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ اور ابو الحسن اصفہانی روڈ پر رینجرز کی دو مستقل چوکیوں کے درمیان واقع رہائشی عمارتوں کو بم دھماکے نے کھنڈرات میں تبدیل کردیا ہے۔

مسماۃ خیر النساء کی والدہ، بھائی، بھتیجی اور بھتیجا ان دھماکوں میں زخمی ہوئے ہیں۔ وہ بچے ہوئے سامان کو سمیٹنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

اتوار کی چھٹی ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں تھے۔ مظہر علی جعفری نے بتایا کہ جب دھماکہ ہوا تو ان کی والدہ کمرے میں موجود تھیں۔ دھماکے کے دباؤ سے شیشے ٹوٹ گئے اور ان کا چہرا بری طرح زخمی ہوگیا۔ وہ انہیں ہاتھوں میں اٹھا کر بھاگے۔’ایک سیکنڈ میں سب کچھ برباد ہوگیا، جو اتنی محنت سے یہ بنایا تھا۔‘

یہاں صرف شیعہ آبادی ہی نہیں دوسرے مسلک کے لوگ بھی رہائش پذیر ہیں۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ نشانہ شیعہ آبادی تھی۔

پولیس کا خیال ہے کہ دھماکے میں 150 کلو گرام سے زیادہ بارود استعمال کیا گیا تھا اور دونوں چار منزلہ متاثرہ عمارتیں اب رہائش کے قابل نہیں رہیں جبکہ لوگ اپنے بچے ہوئے سامان کے ساتھ آشیانے کی تلاش میں ہیں۔

کراچی میں اس سے پہلے بھی بم دھماکے ہوتے رہے ہیں مگر گھروں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو پہلی بار اس پیمانے پر نشانہ بنایا گیا۔ اجڑے ہوئے گھروں کے مناظر نے یہاں کے مکینوں کو شدید ذہنی صدمے سے دوچار کردیا ہے اور کئی خواتین سکتے کے عالم میں فلیٹوں کو دیکھتی رہیں۔

جو جانی اور مالی نقصان ہونا تھا وہ تو ہوگیا لیکن اب مزید نقصان سے بچنے کی کوشش جاری تھی۔ مخدوش دیواروں کو لوگ اپنے طور پر گرا رہے تھے۔

ایک رضاکار محسن عباس نے بتایا کہ ریسکیو ٹیمیں یہاں نہیں پہنچیں اسی لیے انہوں نے یہ کام اپنے ہاتھوں میں اٹھالیا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کی عدم موجودگی کو ’بے حسی‘ قرار دیا۔

News image

عوام کی کسی مشتعل کارروائی سے بچنے کے لیے پولیس اور رینجرز نے بھی خود کو جائے وقوع سے دور رکھا جبکہ صحافیوں کو نوجوانوں کے سخت جملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

عوام کی کسی مشتعل کارروائی سے بچنے کے لیے پولیس اور رینجرز نے بھی خود کو جائے وقوع سے دور رکھا جبکہ صحافیوں کو نوجوانوں کے سخت جملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

حکومت نے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے پندرہ پندرہ لاکھ اور زخمیوں کے لیے دس دس لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کیا ہے، لیکن متاثرین اس پر ناخوش نظر آتے ہیں۔

مسماۃ شاہدہ مسعود کا کہنا تھا کہ پندرہ لاکھ روپے دے کر حکومت کیا ثابت کرنا چاہتی ہے۔ ’اس رقم سے جو لوگ ہلاک ہوئے ہیں کیا وہ واپس آجائیں گے، جو گھر اجڑے ہیں دوبارہ بن جائیں گے۔‘

گزشتہ سال شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے لیے بدترین سال ثابت ہوا تھا۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق گزشتہ سال 400 شیعہ ہلاک ہوئے تھے۔ رواں سال کوئٹہ میں ہزارہ آبادی میں دھماکے اور کراچی میں اہلسنت کے تین علما کے قتل کے واقعات پہلے سے موجود کشیدگی میں اضافے کا باعث بنے۔

اس واقعے نے شیعہ افراد کو سوگوار کرنے کے علاوہ مشتعل بھی کردیا ہے۔ شیعہ رہنما محمد علی نقوی کا کہنا ہے کہ ’اس سے پہلے کہ یہ معاملہ اتنا بڑھ جائے اور لوگ خود عدالتیں لگانا شروع کردیں، عدالتیں اپنا کام شروع کردیں، ایسا نہ ہو کے ہمارے بچے اور بہنیں اس عمل کو دہرائیں۔‘

متاثرہ عمارتوں کے دو سو کے قریب متاثر خاندان کی رہائش کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی اعلان سامنے نہیں آیا تھا، ان میں سے بعض خاندانوں نے امام بارگاہ میں پناہ لی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>