پشاور: موبائل فون کی دکانوں کو دھمکی

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 2 مارچ 2013 ,‭ 12:35 GMT 17:35 PST

پشاور میں گذشتہ ماہ سی ڈی کی دکانوں پر حملے کیے گئے تھے

پشاور میں سی ڈی کی دکانوں کے بعد اب موبائل فون کی ان دکانوں کو بھی دھمکی آمیز خطوط موصول ہو رہے ہیں جو موبائل فون میں گانے، فلمیں یا عریاں مواد ڈال کر دیتے ہیں۔

ایسا ہی ایک خط دو روز پہلے پشاور صدر میں قائم اہم تجارتی مرکز بلور پلازہ اور اس کے قریب ایک اور موبائل فون کی دکانوں پر مشتمل پلازا میں تقسیم کیے گئے ہیں۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ اس خط میں ان دکان داروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنا کاروبار فوری طور پر بند کر دیں جو موبائل فون میں گانے، فلمیں اور یا عریاں تصاویر اور دیگر مواد ڈال کر دیتے ہیں۔

یہ خط ہاتھ سے لکھا گیا ہے اور حظ کے اوپر تحریک طالبان پاکستان تحریر ہے۔ اس خط میں ان دکانداروں کو ایک ہفتے کا وقت دیا گیا ہے کہ یہ کاروبار فوری طور پر بند کریں وگرنہ وہ خود نتائج کے ذمے دار ہیں گے۔

بلور پلازہ کے تاجروں کا کہنا ہے کہ اس پلازا میں چند ہی ایسی دکانیں تھیں جہاں موبائل میں فلمیں یا گانے ڈال کر دیا جاتا تھا، تاہم اب انھیں بند کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پلازا میں عریاں مواد کا کام کوئی نہیں کرتا ہے۔

بلور پلازا شہر کے اہم ترین مقام پشاور صدر میں واقع ہے۔ اسی پلازہ کے قریب دیگر پلازے بھی موجود ہیں جہاں موبائل فون کا کاروبار ہوتا ہے۔ ان پلازوں میں موبائل فون کی تو سیکڑوں دکانیں ہیں لیکن ایسی دکانیں اور کیبن جو گانے اور فلمیں موبائل فون میں ڈال کر دیتے ہیں ان کی تعداد کم ہے۔

پشاور شہر کے پولیس افسر عمران شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی طور پر اس خط کا معائنہ کیا جا رہا ہے کہ آیا یہ درست ہے یا کسی کی شرارت ہے۔ اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ ایسی دکانوں کی تحقیقات کی جارہی ہیں جو عریاں مواد کا کام کرتے ہیں اگر کوئی دکان یا شخص پکڑا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

"ابتدائی طور پر اس خط کا معائنہ کیا جا رہا ہے کہ آیا یہ درست ہے یا کسی کی شرارت ہے۔"

پشاور شہر کے پولیس افسر عمران شاہد

انھوں نے کہا کہ صدر کے اس علاقے میں حفاظتی انتظامات بڑھا دیے گئے ہیں پولیس کی مزید نفری تعینات کر دی گئی ہے اور غیر ضروری پارکنگ ختم کرکے پلازا کے سامنے آنے جانے والے پر کڑی نگاہ رکھی جارہی ہے جبکہ اس پلازہ کی یونین کے عہدیداروں کی مدد سے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

پشاور میں گذشتہ ماہ سی ڈی کی دکانوں پر حملے کیے گئے تھے جب کہ 21 فروری کو پشاور میں ایک موبائل فون کے پلازا میں دھماکے سے ایک شخص ہلاک اور 18 زخمی ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>