
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان قتل کے تیس مقدمات میں ملوث ہیں، انہوں نے سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر اپنے مخالفین کو نشانہ بنایا۔
کراچی میں پولیس نے چار مبینہ ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ مجلس وحدت المسلمین نامی شیعہ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ یہ چاروں نوجوان جنہیں پولیس ٹارگٹ کلرز قرار دے کر گرفتار کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے بے گناہ ہیں۔
ڈی آئی جی ایسٹ جاوید اوڈھو نے ایک پریس کانفرس میں دعویٰ کیا کہ سید نعیم حیدر، اظہر رضوی، رئیس جعفری اور حسین جعفری کو رضویہ اور گلبہار سے گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے پستول اور رائفل برآمد کی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان قتل کے تیس مقدمات میں ملوث ہیں، انہوں نے سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر اپنے مخالفین کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب مجلس وحدت المسلمین کے رہنما اصغر عباس زیدی نے متنبہ کیا ہے کہ اگر بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو رہا نہ کیا گیا تو ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔
کراچی پریس کلب میں جمعہ کی شام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چوبیس اور پچیس فروری کی رات کو رینجرز نے بغیر کسی وارنٹ کے گلبہار جعفریہ کالونی سے 19 نوجوانوں کو ان کے گھروں سے حراست میں لیا، جن میں سے چار کے علاوہ باقی کو رہا کردیا گیا، ان چار شیعہ نوجوانوں کو ڈی آئی جی جاوید اوڈھو کے حوالے کیا گیا جنہوں نے ان پر بے بنیاد الزمات عائد کیے ہیں۔
مجلس وحدت مسلمین نے مطالبہ کیا کہ ڈی آئی جی جاوید اوڈھو کو برطرف کیا جائے اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا جائے۔
دوسری جانب اہلسنت و المجاعت کا کہنا ہے کہ ان ٹارگٹ کلرز کی گرفتاری اور اعترافی بیانات نے کئی رازوں سے پردہ ہٹادیا ہے۔
اہلسنت و المجاعت کے ترجمان اورنگزیب فاروقی کا کہنا ہے کہ اگر گرفتار ملزمان کی پشت پناہی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے تو مفتی عبدالمجید دینپوری اور دیگر کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری بھی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔






























