’کراچی میں پانچ بلوچ طلبہ لاپتا‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 20 فروری 2013 ,‭ 18:20 GMT 23:20 PST

کراچی سے لاپتا نوجوان منظور قلندرانی

بلوچستان میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی سے مزید پانچ بلوچ طالب علم لاپتا ہوگئے ہیں، اور انہیں پاکستانی اداروں نے اپنی حراست میں لیا ہے جبکہ مقامی پولیس نے ان واقعات سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

غیر سرکاری تنظیم وائس فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین قدیر ریکی کا کہنا ہے کہ منظور قلندرانی کو گلشنِ معمار کے علاقے سے حراست میں لیا گیا ہے، اور وہ کراچی کی ایک نجی یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھے۔

قدیر بلوچ کے مطابق منظور قلندرانی کا تعلق خضدار کے قریبی علاقے توتک سے ہے، اس سے پہلے ان کے خاندان کے 30 کے قریب لوگوں کو حراست میں لیا گیا جن میں سے نصف تاحال لاپتا ہیں جبکہ دو کی لاشیں مل چکی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ بلوچستان کے حالات اور خاندان کے دوسرے لوگوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی وجہ سے نوجوان منظور قلندرانی کراچی میں زیر تعلیم تھے مگر انہیں یہاں بھی بخشا نہ کیا گیا۔

وائس فار مسنگ پرسنز کا کہنا ہے کہ منظور کے علاوہ پنجگور کے چار طالب علموں کو بھی چند روز پہلے حراست میں لیا گیا تھا۔ تنظیم کے مطابق تین کو رئیس گوٹھ اور ایک کو ڈالمیا سے اٹھایا گیا تھا۔

دریں اثنا سہراب گوٹھ اور شاہراہ فیصل پولیس نے ان واقعات سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

منظور قلندرانی ان کے خاندان کے 30 لوگ پہلے بھی اٹھائے گئے ہیں، جن میں سے کچھ کو چھوڑا دیا گیا لیکن 15 کے قریب ابھی تک لاپتا ہیں۔

یاد رہے کہ پچھلے ڈیڑھ ماہ میں کراچی سے پانچ بلوچ نوجوانوں کی لاشیں مل چکی ہیں، جو بلوچستان سے لاپتا ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>