
سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں اس کیس کی سماعت ہو رہی ہے
کراچی بدامنی کیس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے بینچ کے روبرو محمود اختر نقوی نامی ایک شہری نے درخواست دائر کی ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کے دودھ شریک بھائی مظفر اویس ٹپی مبینہ طور پر پولیس اور محکمہ ریوینیو میں غیر قانونی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
درخواست گزار کا الزام ہے کہ اویس ٹپی سندھ کے ڈی فیکٹو وزیر اعلیٰ ہیں، جو سیاسی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔
جسٹس سرمد جلال عثمانی نے سوال کیا کہ یہ ٹپی کون ہے؟ وہ جہاں جاتے ہیں اس کا نام سنتے ہیں۔ انہوں نے سینئر ممبر بورڈ آف ریوینیو شاذر شمعون سے سوال کیا کہ کیا وہ ٹپی کو جانتے ہیں؟ شمعون نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔
جسٹس خلجی عارف حسین نے شاذر شمعون سے دریافت کیا کہ وہ اویس ٹپی سے کبھی نہیں ملے، کیا وہ ان کے محکمے میں مداخلت نہیں کرتے؟ اور ان کی جانب سے لاعلمی کے اظہار پر کہا کہ ’ ہم آپ سے حلفیہ بیان لیں گے کہ آپ نے کبھی ان کا نام تک نہیں سنا‘، جس پر شاذر شمعون نے کہا کہ انہوں نے ٹی وی پر یہ نام سنا ہے، جس پر تمام جج مسکرا دیے۔
جسٹس عارف حسین خلجی نے درخواست گزار کو مخاطب ہوکر کہا کہ وہ یہاں کسی کی عزت اچھالنے کے لیے نہیں بیٹھے ہیں، جو شخص یہاں موجود نہیں ہے ان کے خلاف باتیں نہیں سن سکتے اور کہا کہ کیا ان کے پاس اپنے الزام کے حق میں ثبوت ہیں؟
جسٹس انور ظہیر جمالی نے ان کی تائید کی اور کہا کہ وہ کسی کی کردار کشی کی اجازت نہیں دیں گے، جس کے بعد عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔
اس سے پہلے بورڈ آف ریونیو کے وکیل یاور فاروقی نے آگاہ کیا کہ عدالت کی حکم پر شق وار عملدرآمد کیا گیا ہے، سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد ہنگامہ آرائی میں 874 ریونیو دیہوں (ریونیو کا ایک یونٹ) کا ریکارڈ جلایا گیا تھا، جس میں سے اب صرف 83 دیہوں کا ریکارڈ بننا ہے، اس کے علاوہ کھاتوں کی منتقلی روک دی گئی ہے۔
جسٹس انور ظہیر جمالی نے ان سے سوال کیا کہ پرائیوٹ کھاتوں کی منتقلی کا حکم کب دیا گیا تھا؟ عدالتی حکم کو بنیاد بنا کر آپ لوگوں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ جن کی اپنی زمین ہے ان کے نام پر منتقلی نہیں ہو رہی ہے؟
سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو شمعون شاذر نے کہا کہ عدالت نے زبانی حکم دیا تھا جبکہ ایڈووکیٹ جنرل کی بھی یہ ہی رائے تھی اس لیے منتقلی روک دی گئی ہے ۔ جسٹس انور ظہیر جمالی نے انہیں بتایا کہ زبانی احکامات کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے، حکام اپنے مقصد کے مطابق تشریح نہ کیا کریں۔
جسٹس سرمد جلال عثمانی نے سوال کیا کہ کتنی زمین الاٹ کی گئی ہے جس پر شاذر شمعون نے انہیں بتایا کہ جب سے حکم دیا گیا ہے الاٹمنٹ بند ہے۔ سرمد جلال نے سوال کیا کہ اس سے پہلے کتنی زمین دی گئی تھی، شمعون شاذر نے انہیں بتایا کہ اس سے پہلے 71924 ایکڑ زمین الاٹ کی گئی جس سے حکومت کو 10 ارب روپے کی آمدنی ہوئی۔






























