
ضلعی اہلکار کا کہنا تھا اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز کے اہلکار اس علاقے میں پہنچ گئے
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے گوادر میں حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں چھ مزدور ہلاک ہو گئے ہیں۔
یہ واقعہ سینیچر اور اتوار کی درمیانی شب گوادر کی تحصیل پسنی میں کوسٹل ہائی وے پر پیش آیا۔
کوئٹہ میں صحافی کے مطابق تین نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے شادی کور کے مقام پر چھ مزدوروں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا۔
گوادر کے ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ گوادر کے علاقے شادی کور میں کوسٹل ہائی وے کے بعض حصے خراب ہوگئے تھے جس کی مرمت کے لیے ایک ٹھیکدار ان مزدوروں کو ایک روز قبل لایا تھا۔
واضح رہے کہ یہ ہائی وے گوادر کی پورٹ سٹی کو کراچی سے ملاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رات کو نامعلوم افراد موٹر سائیکلوں پر آئے اور انہوں نے ان مزدوروں پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی۔
شدید فائرنگ کے نتیجے میں وہاں موجود تمام مزدور موقع پر ہی ہلاک ہوئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ان مزدوروں کے ساتھ ایک بارہ سالہ بچہ بھی تھا لیکن حملہ آوروں نے بچے کو نہیں مارا۔
ضلعی اہلکار کا کہنا تھا اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی لیویز فورس کے اہلکار اس علاقے میں پہنچ گئے اور ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو پسنی ہسپتال پہنچایا۔
ہلاک ہونے والے تمام افراد کا تعلق شمال مشرق میں وزیرستان سے متصل بلوچستان ہی کے علاقے ژوب سے بتایا جاتا ہے۔
اہلکار نے بتایا کہ ان مزدوروں کو ایک ٹھیکیدار مقامی انتظامیہ کو اطلاع دیے بغیر یہاں کام کے لیے لائے تھے۔
ضلع گوادر بلوچستان کے مکران ڈویژن کا حصہ ہے۔ مکران کا شمار بھی بلوچستان کے شورش زدہ علاقوں میں ہوتا ہے۔
اس سے قبل بھی مکران ڈویژن کے تینوں اضلاع کیچ، پنجگور اورگوادر میں سڑکوں کی تعمیر کے علاوہ دیگر تعمیراتی کمپنیوں پر کام کرنے والے افراد کو اس قسم کی کاروائیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔






























