
طالبان کے ترجمان نے کہا کہ وہ ابھی بھی حکومت کی طرف سے سنجیدہ مذاکرات کے منتظر ہیں
کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ طالبان اور حکومت کے مابین مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور نہ ہی طالبان کی شوریٰ نے انہیں مذاکرات کے لیے سربراہ مقرر کیا ہے۔
دریں اثناء پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے ایک بار پھر پاکستانی طالبان کو پیشکش کی کہ اگر وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں سنجیدہ ہیں تو اپنی مذاکراتی ٹیم کا اعلان کریں اور بہتر ہوگا کہ حکیم اللہ محسود اور ولی الرحمن ہتھیار پھینک دیں۔
سنیچر کو تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کسی نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر بی بی سی کو بتایا کہ مذاکرات کے بارے میں ابھی تک کسی حکومتی اہلکار سے رابط نہیں ہوا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے طالبان شوریٰ کا دوبارہ کوئی اجلاس منعقد ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاہم وہ اب بھی حکومت کی طرف سے سنجیدہ مذاکرات کے منتظر ہیں۔
ترجمان کے مطابق جب حکومت کی طرف سے سنجیدہ بات چیت کا آغاز ہو جائے تب ہی وہ مذاکراتی کیمٹی کی منظور دیں گے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے میڈیا میں احسان اللہ احسان کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کا جنوبی وزیرستان میں ایک اہم اجلاس ہوا تھا جس میں تحریکِ طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان کو مذاکرات کے لیے سربراہ مقرر کیا گیا ہے اور مذاکرات کے تمام اختیارات ان کے سپرد کیے گئے ہیں۔
"ابھی تک حکومت کی طرف سے مذاکرات کے حوالے سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہوا اور جب حکومت کی طرف سے کوئی مثبت جواب آ جائے تب ہی کوئی حتمی فیصلہ کریں گے۔"
طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان
احسان اللہ احسان نے بتایا کہ یہ تمام باتین بے بنیاد ہیں اور اس طرح کے بے بنیاد افواہیں چلانےمیں حکومت اور خُفیہ اداروں کا ہاتھ معلوم ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تک حکومت کی طرف سے مذاکرات کے حوالے سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہوا اور جب حکومت کی طرف سے کوئی مثبت جواب آ جائے تب ہی وہ کوئی حتمی فیصلہ کریں گے۔
میڈیا میں یہ بات آئی تھی کہ طالبان ترجمان کو مولانا فضل الرحمٰن، منور حسن اور نواز شریف کے ساتھ رابطہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تک اس طرح کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔






























