
پشاور میں حالیہ چند ہفتوں میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں تیزی آئی ہے
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعے میں ایک سینیئر وکیل کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق ہلاکت کا یہ واقعہ جمعہ کی صبح گلبہار کے علاقے میں پیش آیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے سینیئر وکیل ملک جرار حسین اپنی گاڑی میں بچوں کو سکول چھوڑنے جا رہے تھے کہ موٹرسائیکل پر سوار دو افراد نے ان پر فائرنگ کی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔
حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملک جرار کا تعلق اہلِ تشیع سے تھا اور یہ ممکنہ طور پر فرقے کی بنیاد ہدف بنا کر ہلاک کیے جانے کا واقعہ ہے۔
پشاور میں حالیہ چند ہفتوں میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں تیزی آئی ہے اور گزشتہ ماہ بھی دو شیعہ ڈاکٹروں ڈاکٹر شاہ نواز اور ڈاکٹر ریاض حسین کو ہلاک کیا گیا۔
تاحال کسی گروپ کی جانب سے اس تازہ واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی تاہم گزشتہ دونوں واقعات کی ذمہ داری کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی نے قبول کی تھی۔
ادھر پشاور کے وکلاء نے ملک جرار حسین کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دے دیا۔
وکلاء نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے ۔ موقع پر موجود پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری قاضی جواد کا کہنا تھا کہ ملک جرار کے قاتلوں کی گرفتاری تک یہ دھرنا جاری رہے گا۔
"ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پورے ملک میں ایک فرقے کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ریاستی اداروں کے کہنے پر یہ واقعات ہو رہے ہیں کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مسلسل دن دہاڑے قتل ہو رہے ہوں اور ایک بھی قاتل نہ پکڑا جائے۔"
مظفر اخونزادہ، امامیہ جرگہ
خیال رہے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا سلسلے ایک عرصے سے جاری ہے اور کراچی اور کوئٹہ میں سینکڑوں افراد ایسی ہی وارداتوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
تاہم پشاور میں جہاں ماضی میں طالبان کی کارروائیوں میں حکومتی فورسز اور عوام کو بڑے پیمانے پر جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے وہاں فرقے کی بنیاد پر ہدف بنا کر ہلاک کیے جانے کا سلسلہ شروع ہونے پر عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔
امامیہ جرگہ خیبر پختونخوا کے رکن مظفر علی اخونزادہ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پورے ملک میں ایک فرقے کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ پشاور میں پچھلے چند ماہ کے دوران بیس سے زائد شیعہ افراد کو ہدف بنا کر ہلاک کیا گیا ہے لیکن ابھی تک کسی ایک واقعے کے ملزم کو بھی گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔
مظفر اخونزادہ نے کہا کہ ’بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ریاستی اداروں کے کہنے پر یہ واقعات ہو رہے ہیں کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مسلسل دن دہاڑے قتل ہو رہے ہوں اور ایک بھی قاتل نہ پکڑا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ خدا کے واسطے حکومت کو ایسے واقعات روکنے کےلیے فوری اقدامات کرے ورنہ اگر اس کے ردعمل میں تشدد شروع ہوا تو ملک میں تباہی پھیل ہوجائی گی۔






























