
جنوری کے مہینے میں یہ دوسرے ڈاکٹر ہیں جن کو پشاور میں قتل کیا گیا ہے
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور اور اس کے مضافات میں ایک ماہر امراض چشم سمیت پانچ افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
مقامی پولیس کے مطابق ماہر امراض چشم ڈاکٹر شاہ نواز منگل کی شام پشاور کے مصروف تجارتی مرکز صدر میں واقع اپنے کلینک میں موجود تھے کہ اس دوران دو افراد آئے اور ان پر فائرنگ کرکے فرار ہو گئے۔
اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی نے قبول کی ہے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ جب مریض آئے تو اس وقت ڈاکٹر شاہ نواز نے اپنے ملازم کو چائے لانے کے لیے کہا اور جب ملازم لوٹ کر آیا تو ڈاکٹر شاہ نواز علی زخمی حالت میں موجود تھے اور مریض موقع پر موجود نہیں تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں دو گولیاں ماری گئی ہیں۔ پولیس نے ملازم کو تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا ہے۔
یہ پشاور میں سالِ رواں کے پہلے مہینے میں ہلاک ہونے والے دوسرے ڈاکٹر ہیں۔
اس سے قبل نو جنوری کو پشاور کے ڈبگری علاقے میں کرم ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ریاض حسین کو اس وقت فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا تھا جب و ہ اپنی گاڑی میں کلینک کے قریب پہنچے تھے۔
ڈاکٹر ریاض حسین کرم ایجنسی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر تھے اور اس قتل کی ذمہ داری بھی لشکرِ جھنگوی نے ہی قبول کی تھی۔
ڈاکٹر شاہ نواز کی ہلاکت پر خیبر پختونخوا کے ڈاکٹروں نے بدھ کو احتجاجاً محدود پیمانے پر ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر عالمگیر نے کہا ہے کہ بدھ کو تمام ڈاکٹرز حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے او پی ڈی میں نہیں بیٹھیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر چونکہ مریضوں کے بارے میں فکرمند ہیں اس لیے مکمل ہڑتال نہیں کی جائے گی جس سے مریض پریشان ہوں مگر انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے انتظامیہ سے مذاکرات چل رہے ہیں۔
دریں اثناء پشاور سے ملحقہ بڈھ بیر کے علاقے میں چار افراد کو ان کے گھر میں ہلاک کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ان افراد کا تعلق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے تھا اور یہ ملک دین خیل قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ خیبر ایجنسی کا علاقے بڈھ بیر کے ساتھ ہی واقع ہے۔






























