
رواں ماہ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے واقعات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات دوبارہ کشیدہ ہو گئے ہیں
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ بیس دنوں کی معطلی کے بعد پیر سے لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت اور بس سروس بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
لائن آف کنٹرول کے آر پار سفر اور تجارت کے لیے قائم ادارے کے سربراہ بریگیڈئر ریٹائرڈ محمد اسماعیل کے مطابق ایل او سی پر کشیدگی کم ہونے کے بعد سفری اور تجارتی سرگرمیاں شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کم ہوئی ہے، کچھ دنوں سے فائرنگ بھی نہیں ہوئی اس وجہ سے ہم نے فیصلہ کیا کہ (راولاکوٹ -پونچھ کے درمیان) سفری سہولت اور تجارت بحال کریں‘۔
بریگیڈئر ریٹائرڈ محمد اسماعیل کے مطابق فائرنگ کی وجہ سے لوگوں کے مال و جان کو خطرہ تھا جس کی وجہ سے راولاکوٹ اور پونچھ کے درمیان بس سروس اور تجارت معطل کرنا پڑی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ اب حکومتِ پاکستان کی طرف سے انہیں بس سروس اور تجارت بحال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
لائن آف کنٹرول پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت پاکستان نے رواں ماہ کی آٹھ جنوری سے پونچھ اور راولاکوٹ کے درمیان بس سروس اور تجارت معطل کر دی تھی۔
کئی دنوں تک جاری رہنے والی ان جھڑپوں کے نتیجے میں تین پاکستانی جبکہ دو بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے اور دونوں ملکوں کی فوج نے ایک دوسرے پر فائرنگ شروع کرنے اور لائن آف کنٹرول عبور کر کے چوکیوں پر حملے کرنے کے الزامات لگائے ہیں۔
البتہ لائن آف کنٹرول پر بھارت اور پاکستان کی فوج کے درمیان حالیہ جھڑپوں کی وجہ سے مظفرآباد - سرینگر بس سروس اور تجارت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
گذشتہ سال جون میں بھی لائن آف کنٹرول پر دونوں جانب سے گولہ باری اور فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں راولاکوٹ اور پونچھ کے درمیان بس سروس اور تجارت دو ہفتوں تک معطل رہی تھی۔
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان طویل کشیدگی کے بعد سنہ 2003 میں قیام امن کے عمل کا آغاز ہوا۔
اس کے نتیجے میں دونوں ممالک نے متنازع ریاست جموں کشمیر میں اعتماد سازی کے کئی اقدامات کیے۔ مثلاً کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان مظفرآباد-سرینگر، راولاکوٹ پونچھ کے درمیان بس سروس کے ساتھ ساتھ تجارت شروع کی گئی جبکہ وادی نیلم سے ایک مقام پر پیدل آر پار جانے کی سہولت دی گئی۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پیر سے پونچھ- راولاکوٹ بس سروس اور تجارت بحال کی جا رہی ہے لیکن اس تعطل نے لوگوں کو جس بے یقینی سے دوچار کیا ہے اس کے اثرات بعد میں محسوس کیے جاتے رہیں گے۔






























