پاکستانی چوکی پر حملہ، اقوام متحدہ کی تحقیقات شروع

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 24 جنوری 2013 ,‭ 19:51 GMT 00:51 PST

رواں ماہ ایل او سی پر فائرنگ کے واقعات کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں دوبارہ تناؤ آیا ہے

اقوام متحدہ کے امن مشن اور فیلڈ سپورٹ ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ چھ جنوری کو کشمیر کے متنازع علاقے کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر پاکستانی چوکی پر حملے کی تحقیقات کا آغاز بیس جنوری سے کر دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے امن مشن اور فیلڈ سپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان آندرے مچل نے بی بی سی کے سوال کا تحریری جواب دیتے ہوئے کہا ’چھ جنوری کو لائن آف کنٹرول پر پاکستانی چوکی پر حملے کی تحقیقات کا آغاز بیس جنوری سے ہو گیا ہے۔‘

واضح رہے کہ چھ جنوری کو لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے پاکستانی چوکی پر حملے میں ایک پاکستانی فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہوا تھا۔

اس واقعے کے بعد پاکستان نے باضابطہ طور پر اقوام متحدہ کے مبصر مشن سے اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے امن مشن اور فیلڈ سپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے ای میل کے ذریعے بیان میں کہا کہ کہ ان تحقیقات کا آغاز چودہ جنوری کو ہونا تھا تاہم اس کو موسم کے باعث ملتوی کرنا پڑا۔

’اقوام متحدہ کے مبصر مشن نے اس واقعے کی تحقیقات کا آغاز چودہ جنوری سے کرنا تھا تاہم موسم کی خرابی کے باعث اسے ملتوی کردیا گیا اب ان تحقیقات کا آغاز بیس جنوری سے ہو گیا ہے‘۔

ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ شدید برفباری کے باعث اقوام متحدہ کے مبصر مشن کے کارکنان کی رسائی اس علاقے تک ممکن نہیں تھی۔

یاد رہے کہ لائن آف کنٹرول پر حالیہ کشیدگی کا آغاز چھ جنوری کو ہوا تھا جب پاکستانی فوج کے مطابق بھارتی افواج نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باغ کے قریب حاجی پیر سیکٹر کے علاقے میں سواں پترا چوکی پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں دو پاکستانی فوجی شدید زخمی ہوئے جن میں سے ایک بعد میں ہلاک ہو گیا۔

چھ جنوری کو ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والے پاکستانی فوجی کا نام لانس نائیک اسلم تھا جنہیں آٹھ جنوری کو چکوال کے نزدیک ان کے آبائی گاؤں خیر پور میں سپرد خاک کیا گیا تھا۔

بھارت کا دعویٰ ہے کہ آٹھ جنوری کو لائن آف کنٹرول پر اس کے دو فوجیوں کو پاکستانی فوجیوں نے ہلاک کر دیا تھا اور ان میں سے ایک کا سر قلم کردیا گیا۔

اس وقت سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدیگي بڑھ گئی ہے۔چند روز قبل بھی بھارتی وزیر اعظم نے ایک سخت پیغام میں کہا تھا کہ اس واقعے کے بعد پاکستان کے ساتھ تعلقات اب پہلے جیسے نہیں رہ سکتے ہیں۔

اس الزام کے بعد پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کچھ نہیں چھپا رہا اور اسی لیے چاہتا ہے کہ آزادانہ تحقیقات ہوں اور یہی پیشکش ہم نے بھارت کو بھی کی ہے۔تاہم بھارت نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>