
پاکستان کا الزام ہے کہ بھارتی فوجیوں نے کنٹرول لائن عبور کرکے پاکستانی فورسز پر فائرنگ کی
بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے پونچھ ضلع میں لائن آف کنٹرول کے قریب بھارت اور پاکستانی افواج کے درمیان مسلح تصادم میں دو بھارتی فوجی مارے گئے ہیں۔
اس سے قبل کشیمر کے اوڑی سیکٹر میں فائرنگ ہوئی جس میں ایک پاکستانی فوجی ہلاک ہوگیا تھا۔
پاکستان کا الزام ہے کہ بھارتی فوجیوں نے کنٹرول لائن عبور کرکے پاکستانی فورسز پر فائرنگ کی تاہم بھارت نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ کئی برس تک کنٹرول لائن پر جنگ بندی کے بعد تصادموں میں اضافہ کی وجہ سے مقامی آبادی بھی خوفزدہ ہے۔
تصادم کا یہ تازہ واقعہ کشمیر کے جنوبی خطہ پونچھ کے مینڈھر سیکٹر میں پیش آیا۔ فوجی حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی ہے، لیکن پولیس ذرائع کے مطابق تصادم میں دو بھارتی فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی فوج کی بارڈر ایکشن ٹیم یا بیٹ سے وابستہ کمانڈوز نے کنٹرول لائن عبور کرکے بھارتی علاقہ میں بھارتی فوج کی تیرھویں راجھستان رائفلز کی ایک پکٹ پر حملہ کیا اور بعد میں واپس چلے گئے۔ تاہم فوج نے اس بات کی تصدیق نہیں کی۔
پولیس نے تصدیق کی ہے پاکستانی فائرنگ میں لانس نائک بیم راج اور لانس نائک سوداگر سنگھ مارے گئے۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان کی افواج کے یہاں بیٹ دستے موجود رہتے ہیں جن کا کام کنٹرول لائن یا سرحد کی دوسری جانب چھوٹے اہداف کو نشانہ بنانا ہوتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے فوجی زرائع نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ یہ واقعہ لائن آف کنٹرول کے قریب ایک پاکستانی فوجی کی ہلاکت کے دو روز بعد سامنے آیا ہے جس کا مقصد اِس واقعے سے توجہ ہٹانے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
اس سے قبل اتوار کو شمالی کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں بھی دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا۔
پاکستان نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارتی فوجی کمانڈوز نے پاکستانی علاقے میں گھس کر فائرنگ کی تاہم بھارت نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
جموں میں تعینات فوج کی سولہویں کور کے ایک افسر نے بتایا کہ مینڈھر میں ایک وسیع علاقہ کا محاصرہ کیا گیا ہے کیونکہ فوج کو شبہ ہے کہ اس کاروائی کی آڑ میں پاکستان سے مسلح درانداز کشمیری خطے میں داخل ہوئے ہیں۔
قابل ذکر ہے سات سو چالیس کلومیٹر طویل اور پینتیس کلومیٹر چوڑی لائن آف کنٹرول پر پچھلے دس سال سے خاموشی تھی۔ چھبیس نومبر سنہ دو ہزار تین کو اُس وقت کے وزرائے اعظم اٹل بہاری واجپائی اور ظفراللہ خان جمالی کے درمیان ایل او سی پر جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا۔
اس دہائی کے دوران کئی مرتبہ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ملکوں کی افواج سرحدیں عبور کرکے ایک دوسرے کے نشانوں پر حملہ کرتی ہیں۔
امریکہ اور چین نے کنڑول لائن پر ہونے والے تشدد پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور دونوں ملکوں سے اپیل کی ہے کہ تصادم کے امکانات کو ختم کیا جائے۔






























