پولیس مقابلہ، دو اہلکاروں کیخلاف کارروائی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 2 نومبر 2012 ,‭ 06:37 GMT 11:37 PST

کراچی میں بدامنی کے حوالے سے پاکستان کی سپریم کورٹ میں بھی ایک مقدمے کی سماعت جاری ہے

کراچی کے ضلع وسطی میں دو شہریوں کے قتل کے بعد انہیں ڈاکو قرار دینے اور مقابلے میں ہلاک کر دینے کا دعویٰ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

علاقے میں پولیس کے سربراہ ایس ایس پی عامر فاروقی کے مطابق علاقہ ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق تھانہ نارتھ ناظم آباد کی حدود میں جمعہ کو علی الصبح دو افراد نعیم اور عدنان کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا جن کی لاشوں کے قریب سے اسلحہ بھی ملا۔

ہلاکت کے بعد علاقے میں تعینات پولیس اہلکاروں نے دعویٰ کیا کہ دونوں ہلاک ہونے والے افراد ڈاکو تھے جن کے مشتبہ انداز پر پولیس نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا مگر وہ نہیں رکے جس کے بعد انہیں تعاقب کرکے للکارا گیا اور مقابلے کے بعد مار دیا گیا۔

لیکن پولیس کا یہ دعویٰ اس وقت مشکوک ثابت ہوا جب ہلاک ہونے والوں کا تیسرا ساتھی آصف سامنے آیا اور اس نے دعویٰ کیا وہ اپنے دونوں ساتھیوں عدنان اور نعیم کے ساتھ نیو کراچی میں رہتا ہے اور تینوں قصائی ہیں۔

آج وہ ان گھروں سے پیسے لینے آئے تھے جن کے جانوروں کو بقر عید پر انہیں نے ذبح کیا تھا۔ پیسے لے کر واپس جارہے تھے کے اس کے دونوں ساتھی گولی لگنے سے ہلاک ہوگئے۔

اس واقعے کے بعد مشتعل ہجوم نے نارتھ ناظم آباد تھانے کا گھیراؤ کیا اور دونوں افراد کی ہلاکت پر زبردست احتجاج اور توڑ پھوڑ کی اور تھانے میں سرکاری املاک اور گاڑیوں کو آگ لگانی چاہی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے رابطہ کرنے پر علاقے میں پولیس کے سربراہ ایس ایس پی عامر فاروقی نے جن کے پاس فی الحال ڈی آئی جی غربی کا چارج بھی ہے، کچھ اور دعویٰ کیا۔

ایس ایس پی عامر فاروقی نے کہا کہ دونوں ہلاکتیں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہوئی ہیں۔ جس کے بعد علاقے میں تعینات پولیس اہلکاروں نے انعام اور تقرری کے لالچ میں یہ دعویٰ کر دیا کہ دونوں ڈاکو تھے اور پولیس مقابلے میں مارے گئے مگر حقیقت بالکل مختلف تھی۔

ہلاک ہونے والوں کے ساتھی آصف کے سامنے آنے پر پولیس نے ان کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کر کے کارروائی شروع کر دی ہے۔

ایس ایس پی عامر فاروقی نے بتایا کہ انہوں نے نارتھ ناظم آباد کے تھانے دار (ایس ایچ او) راجہ طارق کو معطل کردیا ہے اور پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

اس سوال پر کہ جن پولیس اہلکاروں کے خلاف شہریوں کے قتل کے دعوے پر کارروائی ہو رہی ہے انہیں گرفتار کیا گیا ہے یا نہیں تو ایس ایس پی عامر فاروقی نے کہا کہ کسی اہلکار کو گرفتار نہیں کیا گیا اور ابھی اس معاملے کی مزید تفتیش ہورہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>