
بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بکرم سنگھ نے پاکستان کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بکرم سنگھ نے کہا ہےکہ منگل کے روز کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی فوج نے منظم انداز میں کارروائی کی تھی جس کا ’ہم اپنی پسند کے وقت اور اپنی پسند کی جگہ پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔‘
سوموار کو دلی میں ہونے والی پریس کانفرنس میں جنرل سنگھ نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس جوابی کارروائی کی نوعیت کیا ہوگی۔
جنرل بکرم نے کہا کہ ’میں اپنے کمانڈروں سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ اشتعال انگیزی کی صورت میں جارحانہ رویہ اختیار کریں‘۔
انہوں نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ بھارت کی سرحد کے اندر ہونے والا حملہ باقاعدہ منصوبہ بندی اور مشاہدے کے بعد کیا گیا جو کہ حملے کے معین اہداف سے ظاہر ہوتا ہے۔
دریں اثناء پاکستانی افواج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے فلیگ میٹنگ کے دوران بھارت سے پاکستانی فوجیوں پر لگائے گئے الزامات پر شدید احتجاج کیا ہے جن میں پاکستانی فوج پر ایک بھارتی فوجی چوکی پر حملے اور بھارتی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
بھارت کا الزام ہے پاکستانی فوجی منگل کی دوپہر لائن آف کنٹرول پار کرکے بھارتی حدود میں داخل ہوئے تھے اور دو بھارتی فوجیوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان میں سے ایک کا سر قلم کرکے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ پاکستان اس الزام سے انکار کرتا ہے۔
اس مبینہ واقعہ کے بعد دونوں فوجوں کے درمیان لائن آف کنٹرول پر کئی جگہ فائرنگ ہوئی ہے اور الزام تراشی کا سلسلہ پوری شدت سے جاری ہے۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ پہلے چھ جنوری کو بھارتی فوجیوں نے لائن آف کنٹرول پار کرکے پاکستان کی ایک سرحدی چوکی پر حملہ کیا تھا جس میں ایک پاکستانی فوجی ہلاک ہوگیا تھا۔ اسی سلسلے میں سوموار کو پونچھ میں دونوں فوجوں کےدرمیان فلیگ میٹنگ بھی ہوئی ہے۔
جنرل سنگھ نے کہا کہ ’منگل کی کارروائی کو درست ثابت کرنے کے لیے پاکستانی فوج جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا بھارتی فوج نے منگل کو ایسی کوئی کارروائی نہیں کی تھی اور اس سلسلےمیں بعض بھارتی اخبارات میں شائع ہونے والی خبریں بھی بالکل بے بنیاد ہیں۔‘
"منگل کی کارروائی کو درست ثابت کرنے کے لیے پاکستانی فوج جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا بھارتی فوج نے منگل کو ایسی کوئی کارروائی نہیں کی تھی اور اس سلسلےمیں بعض بھارتی اخبارات میں شائع ہونے والی خبریں بھی بالکل بے نیاد ہیں۔‘ نے کہا کہ ’منگل کی کارروائی کو درست ثابت کرنے کے لیے پاکستانی فوج جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا بھارتی فوج نے منگل کو ایسی کوئی کارروائی نہیں کی تھی اور اس سلسلےمیں بعض بھارتی اخبارات میں شائع ہونے والی خبریں بھی بالکل بے نیاد ہیں۔"
جنرل بکرم سنگھ
ان خبروں میں یہ بھی کہاگیا تھا کہ میندھر سیکٹر میں فوج کے ایک علاقائی کمانڈر کے انتہائی جارحانہ رویے کی وجہ سے صورتحال بگڑی تھی۔ لیکن جنرل سنگھ نے اس دعوے کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ ’اشتعال انگیزی کے جواب میں وہ اپنے کمانڈروں سے جارحانہ رویہ کی ہی توقع کرتے ہیں۔‘
پاکستانی فوج کی مبینہ کارروائی کے بعد بھارت میں سخت رد عمل سامنے آیا ہے اور بہت سے حلقوں نے پاکستان سے مذاکرات کا عمل روکنے کا بھی مطالبہ کیا ہے لیکن حکومت نے سفارتی سطح پر حالات کو سنبھالنے کی کوشش کی ہے۔
ان مطالبات کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا تھا کہ ’اس طرح کے واقعات برداشت نہیں کیے جاسکتے لیکن صورتحال کو بگڑنے نہیں دیا جاسکتا۔‘
جنرل بکرم سنگھ نے کہا کہ ’پاکستانی کارروائی کی وجہ سمجھ سے باہر ہے اور وہ فوجی کارروائی کے تمام بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔۔۔ لیکن میں نے اپنے کمانڈروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ لڑائی میں بھی اپنی اخلاقی بالادستی برقرار رکھیں۔‘
اس سے پہلے بھارتی فضائیہ کہ سربراہ ایئر مارشل این اے کے براؤن نے بھی کہا تھا کہ اگر لائن آف کنٹرول پر فائربندی کی خلاف ورزی بند نہیں ہوتی تو’دوسرے راستوں پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔‘
پاکستانی افواج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے فلیگ میٹنگ کے دوران بھارت سے پاکستانی فوجیوں پر لگائے گئے الزامات پر شدید احتجاج کیا ہے جن میں پاکستانی فوج پر ایک بھارتی فوجی چوکی پر حملے اور بھارتی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔






























