
کشمیر کے متنازع علاقے کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر حالیہ فائرنگ کے واقعات پر پاکستان نے فلیگ میٹنگ کے دوران بھارت سے پاکستانی فوجیوں پر لگائے گئے الزامات پر شدید احتجاج کیا ہے۔
پاکستانی افواج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بھارت سے پاکستانی فوجیوں پر لگائے گئے الزامات پر شدید احتجاج کیا ہے جن میں پاکستانی فوج پر ایک بھارتی فوجی چوکی پر حملے اور بھارتی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
لائن آف کنٹرول پر پاکستانی اور بھارتی فوجوں کے درمیان جھڑپوں کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث پیر کو دونوں فوجوں کے درمیان ایل او سی پر بریگیڈ سطح کا اجلاس ہوا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی متواتر خلاف ورزیوں اور پاکستانی پوزیشن پر بھارتی حملوں کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
یاد رہے کہ چھ جنوری کو بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستانی چوکی پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک پاکستانی فوجی ہلاک ہو گیا۔
آٹھ جنوری کو بھارتی فوج نے الزام لگایا کہ پاکستانی فوج نے میندھر کے علاقے میں دو بھارتی فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔ اس الزام کی پاکستان تردید کرتا ہے۔
اس کے بعد گیارہ جنوری کو بھارتی فوج کی پاکستانی پوسٹ پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک اور فوجی ہلاک ہو گیا۔
پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے چھ جنوری کے واقعے کے بعد باضابطہ شکایت کی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی شکایت پر تحقیقات کی جائیں گی۔






























