کشمیر: ایل او سی پر فائرنگ میں تین ہلاک

آخری وقت اشاعت:  منگل 16 اکتوبر 2012 ,‭ 11:24 GMT 16:24 PST
پاکستان کی فوج

پاکستان کی فوج کی طرف سے گولہ باری کے متعلق ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے

شمالی کشمیر کے اُوڑی سیکٹر میں حکام کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ایک گاؤں میں خاتون سمیت تین شہری اُسوقت ہلاک ہوگئے جب پاکستانی فوج نے بھارتی علاقہ کی طرف مارٹر گولے فائر کیے۔

فوج کے مطابق ہلاک ہونے والی خاتون حاملہ تھیں اور شیلنگ کے دوران خوف سے ان کے دل کی حرکت بند ہوگئی۔یہ واقع سرینگر سے شمال کی جانب ایک سو بیس کلومیٹر دوُر اوڑی قصبہ کے چورنڈا گاؤں میں منگل کی صبح دس بجے پیش آیا۔

اُوڑی کے ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مارٹر شیلنگ کی وجہ سے اُوڑی کے چورنڈا گاؤں کے لوگوں نے لاؤڈ سپیکروں کے ذریعہ پاکستانی فوج سے شیلنگ روکنے کی اپیلیں کیں تاکہ لاشوں کو دفنایا جا سکے۔

اُوڑی کے ایک پولیس افسر آر پی سنگھ نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ واقع منگل کی صبح پیش آیا۔ اب وہاں پر امن ہے، مارے گئے شہریوں کو دفن کیا گیا ہے۔‘

اُوڑی کے ایک سماجی کارکن حاجی عبدالرحمٰن نے بتایا کہ چُورنڈا سے کچھ کنبے ہجرت کرکے اُوڑی میں اپنے رشتہ داروں کے یہاں آئے ہیں۔

فوج کے ایک اعلیٰ افسر کرنل گریوال نے بتایا: ’یہ واقع ہوتے ہی ہاٹ لائن کے ذریعہ پاکستانی فوجی حکام کے ساتھ رابطہ کیا گیا۔‘ تاہم انہوں نے تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔

مسٹر گریوال نے بتایا کہ چورنڈا گاؤں کے قریب فوج کی کچھ چوکیاں ہیں جنہیں پاکستانی افواج نے نشانہ بنایا، لیکن اس حملہ میں عام شہریوں کو جانی نقصان اُٹھانا پڑا۔

پاکستانی فوج کی طرف سے اس سلسلے میں ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ بھارت اور پاکستان نے تعلقات کو استوار کرنے کے لیے اکتوبر دو ہزار آٹھ میں کنٹرول لائن کو کشمیر کے دونوں خطوں کے درمیان تجارت کے لیے کھولنے کا اعلان کیا۔ اُوڑی کے سلام آباد علاقہ میں ایک تجارتی رابطہ مرکز قائم کیا گیا ہے جہاں سے دونوں اطراف کی مال گاڑیاں تجارتی اجناس کا تبادلہ کرتی ہیں۔

ایل او سی تجارت سے وابستہ ایک معروف تاجر نور محمد بابا نے بی بی سی کو بتایا: ’فائرنگ سے تجارت پر اثر نہیں پڑا ۔ آج ہی پانچ مال گاڑیاں اُوڑی پہنچی جو بعد میں اپنی منزل کی طرف چل پڑیں۔‘

واضح رہے سات سو چالیس کلومیٹر لائن آف کنٹرول ایک عبوری سرحد ہے جو جموں کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم کرتی ہے۔ اُنیس سو سینتالیس کے بعد یہ سرحد دونوں ملکوں کے درمیان بڑی چھوٹی جنگوں کا میدان بنتی رہی ہے۔ نومبر دو ہزار تین میں دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم ظفراللہ خان جمالی اور اٹل بہاری واجپائی کے درمیان کنٹرول لائن پر جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے بعد پاک بھارت افواج کے درمیان شیلنگ یا فائرنگ کا تبادلہ رُک گیا۔ لیکن پچھلے نو سال کے دوران بھارت نے اکثر اوقات پاکستان پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>