
بلوچستان میں گورنر راج کا نفاذ علمدار روڈ پر ہونے والے بم دھماکوں میں ہلاکتوں کے بعد شیعہ مسلک کی تنظیوں کے احتجاج کے بعد کیا گیا تھا
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کے خلاف کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
احتجاجی مظاہروں کا اعلان معزول صوبائی حکومت میں شامل جماعتوں میں سے جمعیت علماء اسلام ،بی این پی (عوامی)اور پیپلز پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر علی مدد جتک نے کیا تھا۔
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں احتجاجی ریلی سائنس کالج سے شروع ہوئی جس میں جمعیت علماء اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے شرکت کی۔
احتجاجی جلوس میں دیگر جماعتوں کے کارکنوں کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی تعداد نہ ہونے کی برابر تھی۔
ریلی کے شرکاء کے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز تھے جن پر گورنر راج کے خلاف نعرے درج تھے ۔
ریلی کے شرکاء نے گورنر راج کے نفاذ کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے شہر کی مختلف شاہراہوں پر گشت کیا۔
ریلی نے باچاخان چوک پہنچ کر جلسے کی شکل اختیار کر لی جہاں جمعیت علماء اسلام کے رہنما سینیٹر حافظ حمداللہ اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا ۔
مقررین نےگورنر راج کے نفاذ کو بلوچستان کے ساتھ بے انصافی، یہاں کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین اور اسے ہائی جیک کرنے کے مترادف قرار دیا ۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کراچی اور صوبہ خیبر پختونخوا کے حالات بلوچستان سے زیادہ خراب ہیں بدامنی کے واقعات کی بناء پر اگر گورنر راج نافذ کیا جانا تھا تو سب سے پہلے سندھ اور خیبر پختونخوا میں ہونا چاہیے تھا لیکن بلوچستان کو کمزور دیکھ کر اس پر وار کیا گیا اور یہاں کی منتخب حکومت ختم کی گئی‘۔
مقررین نے صوبے سے فوری طور پر گورنر راج کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
کوئٹہ کے علاوہ پشین، لورالائی قلعہ سیف اللہ، ژوب،قلات، مستونگ، تربت اور دیگر شہروں میں بھی گورنر راج کے نفاذ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
صحافی محمد کاظم کے مطابق کوئٹہ میں ہونے والے مظاہرے میں شریک پیپلز پارٹی کارکن پارٹی کے بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی رہنماء علی مدد جتک کے حامی تھے۔
پیپلزپارٹی کے بلوچستان اسمبلی میں پندرہ اراکین میں سے جو دو اراکین گورنر راج کی شدید مخالفت کر رہے ہیں ان میں سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی اور علی مدد جتک شامل ہیں۔
چونکہ گورنر راج کے نفاذ کا فیصلہ پیپلز پارٹی کی قیادت میں قائم وفاقی حکومت اور مرکزی قیادت نے کیا تھا اس لیے پارٹی کے بلوچستان اسمبلی میں زیادہ تر اراکین خاموش ہیں۔ تاہم پارٹی کے صوبائی صدر میر صادق عمرانی اور جان علی چنگیزی گورنر راج کے بھر پور حامی ہیں۔
پیپلز پارٹی کے زیادہ تر اراکین کی طرح سابق مخلوط حکومت میں شامل سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ق) کے پارلیمانی رہنما اور سابق صوبائی وزیر خزانہ میر عاصم کرد گیلو کے سوا باقی اراکین نے اس حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کی ہے جو کہ بعض سیاسی مبصرین کے مطابق ’گورنر راج کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے‘۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ (ق)کی مرکزی قیادت نے بھی بلوچستان میں گورنر راج کی حمایت کی تھی جبکہ خود گورنر نواب ذوالفقار علی مگسی کا تعلق بھی مسلم لیگ (ق) سے ہے۔
مسلم لیگ (ق) کی طرح عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے گورنر راج کی حمایت کی گئی تھی اس لیے بلوچستان اسمبلی میں پارٹی کے تین اراکین نے بھی چھپ سادھ رکھی ہے۔
بلوچستان کی معزول حکومت میں شامل جماعتوں میں سے صرف دو جماعتیں جمعیت علماء اسلام (ف) اور بی این پی (عوامی) کی جانب سے گورنر راج کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔
ان جماعتوں کی جانب سے گورنر راج کے خلاف پچیس جنوری کے لیے شٹر ڈاؤن اور یکم فروری کے لیے پہیہ جام ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔






























