سیاسی برجوں پر انحصار کی سیاست

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 دسمبر 2012 ,‭ 16:48 GMT 21:48 PST

سیاسی مہم میں سرگرم ’مریم نواز ‘ مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کی صاحبزادی ہیں

تقریباً پچیس برس قبل، سن انیس سو اٹھاسی میں جنرل ضیا الحق کی آمریت کے بعد جماعتی بنیادوں پر منعقد ہونے والے پہلے انتخابات کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے ایک اردو اخبار نے اپنے سرخی میں بڑے بڑے برج الٹنے کی بات کی تھی۔ جن افراد کی شکست اس سرخی کی بنیاد بنی تھی، ان میں بڑے نام سندھ میں اس وقت کے پیر پگاڑا سید مردان شاہ اور غلام مصطفیٰ جتوئی کے بھی تھے۔

حروں کے روحانی پیشوا پیر پگاڑا کو خیرپور کے ایک حلقے سے تقریباً پچاس ہزار ووٹوں سے زیادہ فرق سے شکست ہوئی تھی۔ اسی طرح غلام مصطفیٰ جتوئی نوابشاہ کے دو حلقوں سے واضع فرق سے ہارے تھے۔

انتخابی نتائج پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی سربراہ بینیظیر بھٹو نے اپنی کامیابی کا سہرا پاکستان کے عوام کے سر باندھا تھا۔

آج یہ تینوں شخصیات دنیا میں نہیں۔ لیکن ان تینوں شخصیات کی اگلی نسل سیاسی میدان میں سرگرم ہے اور دو ہزار تیرہ میں متوقع اگلے عام انتخابات کی تیاری میں ہیں۔ پیر سید مردان شاہ کے بیٹے اور موجودہ پیر پگاڑا پیر سید صبغت اللہ شاہ نے حال ہی میں سندھ کے شہر حیدرآباد میں ایک بڑا جلسہ کیا جسے تجزیہ نگار سندھ کی تاریخ کے بڑے جلسوں میں شمار کر رہے ہیں۔

بینظیر بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری نے ستائیس دسمبر کو بینظیر بھٹو کی برسی پر پارٹی کے کارکنوں سے خطاب کیا جو ان کا ملک میں کسی عوامی جلسے سے پہلا خطاب ہے۔ لیکن عملاً پارٹی کی باگ ڈور ان کے والد صدر آصف علی زرداری اور ان کی پھوپھی فریال تالپور کے ہاتھ میں ہی ہے۔

" انیس سو اٹھاسی کے بعد چھ بار عام انتخابات اور دو دو بار بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے وزیر اعظم بننے کے باوجود عوامی سیاست کی جڑیں مضبوط کیوں نہیں ہوئیں"

بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنے خطاب میں پی پی پی کی روایت کو قائم رکھتے ہوئے عوام کو ہی طاقت کا سرچشمہ قرار دیا۔ اس بات کو پچیس برس بیت گئے ہیں جب بینظیر بھٹو نے اپنی کامیابی کا سہرا عوام کے سر باندھا تھا۔

ملک ایک بار پھر عام انتخاب کی طرف بڑھ رہا ہے۔

اس سیاسی ماحول میں اگر تجزیہ نگاروں کی بات کو درست مان لیا جائے تواس بار پی پی پی کی قیادت سندھ میں انتخابات میں سہارے کے لیے نئے پیر پگاڑا سید سبغت اللہ شاہ اور غلام مصطفیٰ جتوئی کے بیٹے غلام مرتضیٰ جتوئی جیسے سیاستدانوں سے رابطے پر مجبور ہے۔

پنجاب میں مسلم لیگ فنکشنل سے تعلق رکھنے والے سیاستدان سید احمد محمود کی گورنر کے عہدے پر تعیناتی سے تجزیہ نگاروں کی رائے کو تقویت بھی ملتی ہے۔

"آئندہ انتخاب میں پیپلز پارٹی کی حکمت عملی میں ان لوگوں پر بہت انحصار ہو گا جن کو ان کی قیادت سیاسی جوڑ توڑ کا ماہر سمجھتی ہے نہ کہ ’جیالوں‘ پر۔"

آئندہ انتخاب میں پیپلز پارٹی کی حکمت عملی میں ان لوگوں پر بہت انحصار ہو گا جن کو ان کی قیادت سیاسی جوڑ توڑ کا ماہر سمجھتی ہے نہ کہ ’جیالوں‘ پر۔

پنجاب اور خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی کے نئے صدور میاں منظور وٹو اور انور سیف اللہ دونوں نے ہی سن دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں آزاد حیثیت سے حصہ لیا۔ اس سے پہلے وہ دونوں ہی پاکستان مسلم لیگ (ق) میں رہ چکے ہیں۔ البتہ منظور وٹو انتہائی کم ارکان اسمبلی ساتھ ہونے کے باوجود نوے کی دہائی میں پی پی پی کی حمایت سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔

یہ تینوں شخصیات جنہیں پیپلز پارٹی انتخابات کی تیاری کے سال میں آگے لے کر آئی ہے، ماضی میں ان کا پی پی پی سے تعلق نہیں رہا ہے۔

انیس سو اٹھاسی کے بعد چھ بار عام انتخابات اور دو دو بار بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے وزیر اعظم بننے کے باوجود عوامی سیاست کی جڑیں مضبوط کیوں نہیں ہوئیں۔

اس کا جواب بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(نواز) کی قیادت کی اپنی اپنی جماعتوں میں جمہوریت متعارف کروانے میں ناکامی ہے۔ سیاستدان کی اولاد یقیناً سیاستدان بن سکتی ہے لیکن میرٹ پر، نا کہ نامزدگیوں کی بنیاد پر اور صرف اولاد ہونے کے ناطے۔

گزشتہ پچیس برس کی سیاست بتاتی ہے کہ جب تک جماعتوں کی قیادت خاندانوں میں گھومتی رہے گی ان جماعتوں کی قسمت کا فیصلہ وہی برج کرتے رہیں گے جن کو یہ گرانے چلی تھیں اور عوام کے ہاتھ بندھے رہیں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>