
کراچی سے لاڑکانہ تک پہلے نیشنل ہائی وے پر اور پھر خیرپور لاڑکانہ شاہراہ پر شاید ہی کوئی ایسا مقام ہو جہاں سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی پانچویں برسی سے متعلق بڑے بڑے بل بورڈ آویزاں نہ ہوں۔
اس طرح کے بورڈ، بینر اور پوسٹر بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد ہر برسی پر سندھ بھر میں نظر آتے تھے، لیکن ان پر سابق وزیر اعظم کے علاوہ جن دیگر افراد کی تصاویر ہوتی تھیں وہ جانے پہچانے سیاسی چہرے ہوتے تھے۔ لیکن اب ان بورڈوں کو دیکھ کر اندازہ نہیں ہو پاتا کہ یہ کونسے موسمی سیاسی بونے ہیں جو بےنظیر بھٹو اور ان کے خاندان سے وابستہ افراد کی تصاویر کے ساتھ اچانک نمودار ہو گئے ہیں۔
کئی تو ایسے بھی تھے جو ذوالفقار علی بھٹو کی تصویر کے ساتھ کھڑے مسکراتے پائے گئے جو کچھ عرصہ قبل تک اس جماعت اور بھٹو خاندان کے مخالفین کے ساتھ کھڑے مسکراتے تھے۔
گڑھی خدا بخش میں محترمہ کی پانچویں برسی کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اور وہاں ایک شاندار سٹیج تیار کیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کی آمد شروع ہوگئی ہے اور خیال کیا جارہا ہے کہ پیپلز پارٹی ایک بڑا شو کرنے ہیں کامیاب ہوجائے گی۔
تاہم ناقدفین کا خیال ہے کہ یہ جلسہ پیپلز پارٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ صرف چند ہفتے قبل ہی سندھ میں نئے پیرپگارا سید صبغت اللہ شاہ کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) نے سندھ کی تاریخ کا ایک بہت بڑا جلسہ کر کے اپنی قوت ثابت کی ہے۔
تبھی سے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے یہ بیانات سامنے آئے ہیں کہ اس جلسے کا جواب بےنظیر بھٹو کی پانچویں برسی کے جلسے میں دیا جائے گا۔
ایک صحافی جاوید کلہوڑو نے لاڑکانہ میں بتایا کہ کہ پیپلز پارٹی لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو جنوبی پنجاب سے لائے گی کیونکہ سندھ میں حکومت کی مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد حکومت اور صدر آصف علی زرداری سے نالاں ہے اور شاید اتنے لوگ نہ آئیں جتنے پچھلے برسوں میں آتے رہے ہیں۔
ایک اور تجزیہ کار نے رائے دی کہ پیپلز پارٹی ٹی وی اور اخبارات کی اشتہاراتی مہم کے ذریعے لوگوں کو یہ باور نہیں کراسکتی کہ اس نے بہت شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ بدعنوانی، اقرباپروری اور پھر سندھ لوکل باڈیز کے قانون نے عام لوگوں میں پیپلز پارٹی کے خلاف سخت غصے کو جنم دیا ہے اور حکومت کی روش کے خلاف سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے اتحاد کے علاوہ باقی تمام جماعتوں کو یکجا کردیا ہے جو عام انتخابات میں حکمراں جماعتوں کے لئے متعدد نشستوں پر مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کو اندازہ ہے کہ اب اس کے پاس نہ بےنظیربھٹو جیسی کوئی ولولہ انگیز قیادت ہے اور نہ ہی وہ اپنی کارکردگی کے ذریعے عوام کا ووٹ حاصل کرسکتی ہے اس لیے اس نے بلاول بھٹو زرداری کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پیپلز پارٹی کو اندازہ ہے کہ اب اس کے پاس نہ بےنظیربھٹو جیسی کوئی ولولہ انگیز قیادت ہے اور نہ ہی وہ اپنی کارکردگی کے ذریعے عوام کا ووٹ حاصل کرسکتی ہے اس لیے اس نے بلاول بھٹو زرداری کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے ماضی میں کچھ تقاریر تو کی ہیں لیکن پارٹی کا کہنا ہے کہ اس برسی سے ان کے باقاعدہ سیاسی کریئر کا آغاز کرایا جائے گا۔ وہ اردو میں تقریر تیار کر رہے ہیں اور پہلی مرتبہ پارٹی کے چیئرمین کے طور پر لوگوں سے خطاب کریں گے۔
ایک اور قیاس آرائی یہ کی جارہی ہے کہ عدالتوں کے فیصلوں کے پیش نظر صدر آصف علی زرداری شاید پارٹی کے شریک چیئرپرسن کا عہدہ چھوڑ دیں گے اور بلاول بھٹو زرداری کو باقاعدہ طور پر پارٹی امور سونپ دیں گے۔
سیاسی اعتبار سے گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں مدفون جید شخصیات اور بلاول بھٹو زرداری دو ایسے عناصر ہیں جو اگلے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ سیاسی جوڑتوڑ کے ذریعے صدر زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور بعض دیگر پارٹی رہنماؤں نے ملک بھر میں ووٹ رکھنے والی شخصیات کی ایک خاصی تعداد کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔
لیکن سب سے اہم سوال بہرحال اب بھی یہ ہے کہ کیا انتخابات واقعی اپنے اوقات کار کے مطابق ہوں گے؟ یا پھر وہ ظاہر اور درپردہ عناصر کامیاب ہو جائیں گے جو انتخابات ملتوی کرانا چاہتے ہیں اور انتخابات سے پہلے ایماندار، محنتی اور صوم و صلات کے پابند امیدوار ملک بھر میں ڈھونڈنا چاہتے ہیں جو بقول ان کے آئین کے مطابق انتخابات کے لیے ضروری ہیں۔
پیپلز پارٹی کے ایک اہم رہنما نے ان خدشات سے متعلق کہا کہ ان کی جماعت اپنے طور پر انتخابات وقت پر کرانے اور تمام سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں وقت پر شفاف انتخابات چاہتی ہیں لیکن اگر طالع آزماؤں کا جمہوریت کے لیے صبر جواب دے گیا ہے تو پیپلز پارٹی کی بھی آمریت کے خلاف جدوجہد کی لمبی تاریخ ہے اور ہم اس لڑائی کے لیے بھی تیار ہیں۔






























