پیپلز پارٹی کے لیے پگاڑہ خطرے کی گھنٹی؟

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 دسمبر 2012 ,‭ 18:03 GMT 23:03 PST

سندھ میں پیپلز پارٹی کو بلدیاتی نظام کے خلاف قوم پرستوں اور پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے

پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) نے سندھ میں بلدیاتی نظام کے بارے میں صوبائی اسمبلی کے منظور کردہ قانون کے خلاف قوم پرستوں کے ساتھ مل کرحیدرآباد میں بہت بڑا جلسہ کیا۔ بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ حکمران جماعت پیپلز پارٹی اس جلسے سے خاصی پریشان ہے۔

مقامی صحافیوں کے مطابق سندھ میں پیپلز پارٹی مخالفین کا اتنا بڑا جلسہ شاذ و نادر ہی ہوتا ہے اور اس جلسے سے پیپلز پارٹی سندھ میں اپنے لیے ایک سنگین خطرہ محسوس کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جلسے کے فوری بعد صدر آصف علی زرداری نے ایک ہفتے سے کراچی میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ ان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ صدر کے دورے کے دو بڑے سیاسی مقاصد ہیں۔ ایک پیر پگاڑہ اور دوسرا غلام مرتضیٰ جتوئی کو مفاہمت کی چادر پہنانا ہے۔

صدر صاحب کی غیر اعلانیہ سیاسی سرگرمیوں کا پہلا نتیجہ یہ نکلا کہ سید یوسف رضا گیلانی مخدوم احمد محمود کو پنجاب کا گورنر بنوانے میں کامیاب ہوئے لیکن تاحال صدر صاحب کی خواہش کے باوجود پیر پگاڑہ کی ان سے ملاقات نہیں ہوسکی۔ احمد محمود کو پنجاب کا گورنر بنانے کے فیصلے کی پیر صاحب نے بھی تائید کی ہے اور پیپلز پارٹی کے حلقے اس خوش فہمی میں ہیں کہ صدر نے انہیں ‘نیوٹرلائیز’ کر لیا ہے۔

ایک ہفتہ قبل حیدرآباد کے جلسے سے خطاب تو تمام سندھ کے قوم پرست رہنماؤں نے کیا لیکن اس کے بیشتر شرکاء پیر پگاڑہ کے مرید اور حامی تھے۔ موجودہ پیر پگاڑہ سید صبغت اللہ شاہ گزشتہ چند ماہ سے جو سیاسی بیان دے رہے ہیں وہ کسی بھی قوم پرست رہنماء سے کم نہیں۔

موجودہ پیر پگاڑہ کے دادا بھی سندھ میں قوم پرست مانے جاتے ہیں۔انگریزوں نے انہیں پُراسرار انداز میں ہلاک کر کے لاش غائب کردی تھی اور آج تک ان کی قبر کے بارے میں کوئی مستند معلومات نہیں مل سکی ہیں۔ سندھ کے کچھ تجزیہ کار یہ بات زور دے کر کہتے رہے ہیں کہ موجودہ پیر پگاڑہ اپنے دادا کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پہلی بار سندھ میں سے ہی سندھیوں کو پیپلز پارٹی کا ایک متبادل پلیٹ فارم مہیا ہو رہا ہے۔ اب تک سندھیوں کا پیپلز پارٹی سے وابستہ رہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہیں کوئی ‘قابل بھروسہ’ متبادل نہیں مل سکا۔ انیس سو ستانوے میں سندھ کے لوگوں نے مسلم لیگ (ن) کو متبادل سمجھ کر ایک حد تک اپنا وزن ان کے پلڑے میں ڈالا لیکن میاں نواز شریف نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا اعلان کرکے انیس اٹھانوے میں بہت بڑی غلطی کی اور سندھی لوگوں کو ایک بار پھر پیپلز پارٹی کے کنویں میں ڈال دیا۔

سندھ کے باشعور طبقے میں کئی برسوں سے یہ بات زیر بحث رہی ہے اور بیشتر دانشور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگر سندھیوں کے حقوق کی نمائندگی، سندھ اور وفاق کے سطح پر کرنے کے لیے اگر کوئی ایسی متبادل قوت سامنے آئے جس پر سندھ کے لوگوں کا بھروسہ قائم ہو تو پیپلز پارٹی سے سندھ چھینا جاسکتا ہے۔ کیونکہ لسانی فسادات اور شہری علاقوں کی نمائندہ جماعتوں سے سندھ کے لوگوں کو بہت خدشات لاحق ہیں۔

اس موقع پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پیر پگاڑہ پیپلز پارٹی کے سندھیوں کے لیے قابلِ اعتماد متبادل بن جائیں گے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس بارے میں باتیں ہو رہی ہیں کہ شاید ایسا ممکن ہوجائے۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ پیر پگاڑہ پھونک پھونک کر قدم رکھیں۔

صدر آصف زرداری سیاسی جوڑ توڑ کے لیے سندھ میں موجود ہیں

اب تک صدر آصف علی زرداری نے سندھ کی حد تک میاں نواز شریف سمیت اپنے سیاسی مخالفین کے لیے بند باندھ رکھا ہے اور ایسی سیاسی چالیں چلی ہیں کہ روایتی جاگیردار خاندان جو ‘اقتداری سدا سہاگنیں’ مانی جاتی ہیں،انہیں بھی قابو کرلیا ہے۔ جس میں گھوٹکی کے مہر، ٹھٹھ کے شیرازی، لاڑکانہ کے انڑ، نوابشاہ کے ڈاہری، شکارپور کے جتوئی اور کماریو خاندان نمایاں ہیں۔

میاں نواز شریف نے سندھ میں بہت کوشش کی لیکن تاحال وہ جیکب آباد کے منظور پنہور، دادو کے لیاقت جتوئی اور لاڑکانہ سے ممتاز بھٹو کے علاوہ کسی کو ساتھ ملانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ سید غوث علی شاہ اور اسماعیل راہو تو پہلے ہی ان کے ساتھ ہیں اور یہ پانچ سات لوگ ایسے ہیں جنہیں ‘وننگ ہارسز’ کہا جاسکتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں اگر پیر پگاڑہ سے پیپلز پارٹی کی کوئی مفاہمت ہوجاتی ہے تو ان کے لیے یہ سونے پہ سہاگہ ہوگا اور اگر آئندہ انتخابات میں پیر پگاڑہ پی پی پی مخالف پلیٹ فارم کو منظم کرکے مدِ مقابل آتے ہیں تو یہ پیپلز پارٹی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوگی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>