
پاکستان میں اس سے پہلے بھی کئی علاقوں میں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے پولیو مہم ملتوی کی گئی
پاکستان میں کراچی اور پشاور میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والے افراد پر منگل کے روز ہونے والے حملے پہلے نہیں بلکہ اس سے قبل بھی یہ حملوں کا شکار رہے ہیں۔
ان ٹیموں کو نہ صرف شدت پسند تنظیموں سے خطرہ لاحق رہتا ہے بلکہ شدت پسندوں کے مخالفانہ پروپیگنڈے سے متاثرہ آبادیوں تک رسائی بھی رضاکاروں کے لیے خطرے سے خالی نہیں ہے۔
رواں سال بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والی ٹیم پر پہلا حملہ سترہ جولائی کو کراچی کے نواحی علاقے سہراب گوٹھ کے قریب ہوا جب قطرے پلانے کی مہم کے دوران اقوام متحدہ کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی جس میں عالمی ادارہ صحت سے وابستہ ایک غیر ملکی ڈاکٹر زخمی ہوئے۔
ڈاکٹر کانسٹینٹ ڈیڈو پر اس وقت حملہ ہوا جب وہ بچوں کو قطرے پلانے کی مہم کے سلسلے میں سہراب گوٹھ کے قریب واقع کچی آبادی مچھر کالونی پہنچے تھے جہاں انہیں دو گولیاں لگیں تھیں۔
اسی نوعیت کا دوسرا واقعہ اکیس جولائی کو کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں ہی رونما ہوا جس میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے پر مامور عالمی ادارہ صحت کے ایک اہلکار اسحاق نور کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق مسلح افراد نے انہیں ایک کلینک میں گھس کے گولیاں مار کر ہلاک کیا۔
اکتوبر میں صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے پولیو رضاکاروں کی ٹیم کا ایک رکن کو شدید زخمی کر دیا جو بعد میں ہسپتال جاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
ان حملوں سے انسداد پولیو کی مہم براہ راست متاثر ہوئی کیونکہ ہر حملے کے بعد مقامی سطح پر یہ مہم معطل کی گئی۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سال جون میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سرگرم حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان نے ڈرون حملے جاری رہنے تک پولیو کے خلاف مہم پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔
اس اعلان کے بعد حکومت نے شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور باڑہ میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم ملتوی کردی تھی جس کے نتیجے میں سرکاری اندازے کے مطابق کم سے کم دو لاکھ سے زیادہ بچے قطروں سے محروم رہ گئے تھے۔
اسی طرح اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں آپریشن کے بعد سامنے آنے حقائق کے نتیجے میں جب یہ پتا چلا کہ اس میں ڈاکٹر شکیل آفریدی بھی شامل ہوئے تھے جس کے بعد سے پولیو کی مہم کو سب سے شدید جھٹکا لگا۔ مبصرین کے مطابق اس کے بعد سے پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر ہونے والے حملوں کی شدت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔






























