
خواتین سمجھتی ہیں کہ تنازع کیا ہوتا ہے اور یہ معاشرے کو کیسے متاثر کرتا ہے،
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں امن کے لیے کام والی خواتین کی تنظیم نے ہندوستان اور پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیری خواتین کو قیام امن کے عمل میں مرکزی کردار دیا جائے۔
یہ مطالبہ ایک ایسے مرحلے پر کیا گیا جب آئندہ منگل کو یہ تنظیم مظفرآباد میں پہلی بار کشمیر کے دونوں حصوں کی خواتین پر مشتمل ایک کانفرنس کا انعقاد کررہی ہے۔ یہ کانفرنس دو روز تک جاری رہے گی۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں امن کے لیے کام کرنے والی خواتین کی تنظیم ویمن فار پیس کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس میں شرکت کے لیے سرینگر سےگیارہ خواتین پر مشتمل وفد کل مطفرآباد پہنچ رہا ہے۔ان خواتین کا تعلق
مختلف مذاہب، مکاتب فکر اور علاقوں سے ہے۔
ویمن فار پیس کی ایک اہم رکن ڈاکٹر شاہین اختر نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس میں تنازعے سے متعلق تمام پہلوؤں پر بات ہوگی خاص طور پر خواتین اس لڑائی میں کس طرح سے متاثر ہوئی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس میں لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کی خواتین اس بات پر بھی غور کریں گی تنازع کشمیر کے حل کے لیے کشمیری خواتین کیسے اپنا کردار ادا کرسکتی ہیں اور انھیں کس طرح سے مذاکرات کے
عمل میں کا حصہ بنایا جائے۔
’خواتین تو اس لڑائی میں بہت متاثر ہوئی ہیں، وہ براست اور بلواسط طور پر متاثر ہوئیں لیکن ان کی آواز نہیں ہے‘۔
ڈاکٹر شاہین نے ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں سے مطالبہ ہے کہ لائن آف کنرول کے دونوں اطراف کی کشمیری خواتین کو مذاکرات کے عمل میں شامل کیا جائے۔
’خواتین کل آبادی کا پچاس فیصد ہیں، وہ سماج کا اہم جز ہیں، ان کو قیام امن کے عمل میں مرکزی حیثیت دی جانا چاہیےکیوں کہ وہ ایک سٹیک ہولڈر ہیں، خواتین سمجھتی ہیں کہ تنازع کیا ہوتا ہے اور یہ معاشرے کو کیسے
متاثر کرتا ہے، میرے خیال میں خواتین مختلف سماجوں کو جوڑے کے لیے پل کا کردار ادا کرسکتی ہیں، وہ قیام امن کے لیے اہم کردار ادا کرسکتی ہے‘۔
سنہ دو 2007 اور دو 2011 میں اسی نوعیت کی دو کانفرنسز سرینگر میں ہوچکی ہیں جن میں شرکا کو واہگہ کے ذریعے سرحد عبور کرنا پڑی تھی جبکہ اس بار ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں نے شرکا کو بس کے ذریعے لائن آف کنٹرول کے آر پار لانے لے جانے کی اجازت دی ہے۔
کشمیر خواتین اب یہ آواز تو اٹھارہی رہی ہیں لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ انھیں مذاکراتی عمل کا حصہ بنایا جائے لیکن ان کی یہ آواز کوئی سنے گا بھی یا پیر پنچال کی چوٹیوں سے ٹکرا کر ان کی گونج فضا میں تحلیل ہو جائے گی۔






























