لاہور: سکول پر حملہ، اساتذہ پر مقدمہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 1 نومبر 2012 ,‭ 17:46 GMT 22:46 PST

سکول پرمشتعل مظاہرین نے حملہ کیا اور فرنیچر اور دیگر اشیاء کو نذر آتش کردیا

لاہور میں درسی کتاب کے پھٹے ہوئے صفحے کی وجہ سے ہونے والی مبینہ غلطی نے نجی سکول کے پرنسپل اور ایک استانی کو ایک ایسے مقدمہ میں پھنسا دیا ہے جس کی سزا موت ہے۔

مقامی عدالت نے اس مقدمے میں گرفتار سکول کے چھہتر سالہ پرنسپل کو عدالتی تحویل میں جیل بھجوا دیا ہے جبکہ مقدمے میں نامزد استانی تاحال روپوش ہیں۔

کریم پارک راوی روڈ کے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور پولیس کی بھاری نفری اب بھی تعینات ہے۔ اس علاقے میں بدھ کو چالیس سال پرانے ایک سکول پرمشتعل مظاہرین نے حملہ کیا تھا اس کی تینوں شاخوں میں توڑ پھوڑ کی گئی اور سامان لوٹ لیا گیا جبکہ فرنیچر اور دیگر اشیاء کو نذر آتش کردیا گیا تھا۔

لاہور کے سپرنٹنڈنٹ پولیس (سٹی) ملتان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے سکول کے پرنسپل عاصم فاروقی کو گرفتار کر کے انوسٹیگیشن پولیس کے حوالے کردیا تھا۔

پولیس نے کل شام سکول کی ایک استانی کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ دو سو پچانوے سی کے تحت توہین رسالت کا مقدمہ درج کر لیا تھا جبکہ سکول کے پرنسپل اور دیگر انتظامیہ کو اعانت جرم میں نامزد کیا گیا ہے۔

ابتدائی اطلاعاتی رپورٹ یعنی ایف آئی آر کریمیہ پارک کے امام مسجد اور دیگر مذہبی رہنماؤں کی جانب سے دی گئی ایک درخواست پر درج کی گئی ہے۔ درخواست دہندگان کا کہنا ہے کہ اس نجی سکول کی استانی نے اپنی کلاس کی طالبات کو ہوم ورک کے طور پر قرآن پر انگلش کا ایک پیرا گراف لکھ کر اور فوٹو کاپی کر کے تقسیم کیا۔

ایف آئی آر کے مطابق اس پیرا گراف کے اختتام پر جو جملے لکھے گئے وہ توہین آمیز اور شان رسالت کی گستاخی کے زمرے میں آتے ہیں۔پولیس کے مطابق درخواست کے ساتھ فوٹو کاپی شدہ ورق کو بھی منسلک کیا گیا تھا۔

سکول کے پرنسپل کے صاحبزادے سمیر فاروقی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ غلطی ایک ایسی استانی نے کی جسے صرف ایک مہینے پہلے ہی بھرتی کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اس استانی کو سکول سے برطرف کر دیا گیا تھا اور اس معاملے کی انکوائری رپورٹ بھی پولیس کے حوالے کر دی گئی تھی۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس ملتان خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے تمام شواہد اکٹھے کر کے انوسٹی گیشن پولیس کے حوالے کردیے ہیں اور اب وہی اس معاملے کی تفتیش کرے گی۔

انوسٹی گیشن پولیس کا کہنا ہے کہ معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے اور مکمل تفتیش کیے بغیر حتمی نتیجہ دینا ممکن نہیں ہوگا۔

سکول کی استانی روپوش ہوچکی ہیں۔ پولیس نے ان کے کرایے کے گھر پر چھاپہ مارا ہے اور ان کے چند رشتہ داروں سے پوچھ گچھ کی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>